تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 116
۱۱۴ مد میر امکان جو کہ ریلوے لائن کے بالکل سامنے ہے اور سرکاری گندم کے گودام کے بالکل متصل ہے میرے پڑوس میں دو آدمی رہتے ہیں۔یہ دونوں احراری ہیں۔اور انہوں نے لوگوں کو احمدیت کے خلاف سخت اشتعال دلایا۔ایک کالڑکا چاقو میرے بچوں کو دکھاتا تھا اور بچوں کو دھمکی دیتا تھا کہ تمہارا پیٹ چاقو سے پھاڑ دوں گا۔کئی دفعہ اس نے میرے بچوں کو زد و کوب کیا۔ہمارے مکان پر جلوس والے چار پانچ مرتبہ آئے۔صرف ایک دفعہ پولیس کے دو سپاہی ساتھ تھے ورنہ پولیس جلوس کے ساتھ نہیں ہوتی تھی۔میرے مکان کے سامنے جلوس والے گندی گالیاں نکالتے اور دروازے کھڑکیاں توڑنے کی کوشش کرتے لیکن ہم دروازے اور کھڑکیوں کو اندر سے مضبوطی کے ساتھ دھکیل کر کھڑے رہتے۔ایک مرتب انھوں نے دروانے کی حق توڑ پھوڑ ڈالی کھڑکی کھول لی اور میری بیوی اور بیٹی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ۔۔۔ہم مرزائیوں کی بیٹیاں نکال کر لے جائیں گے اور مکانوں کو آگ لگا دیں گے۔۸ مارچ بروز اتوار دوپہر کے وقت میرے مکان پر قریبا پچاس آدمیوں نے حملہ کر کے سخت گالیاں دیں اور ہم کو قتل کر دینے کی دھمکیاں دیں۔دو گھنٹے بعد میرے بیوی بچے محبوب اپنی کے مکان پر چلے گئے اور ان کے بچوں کے ساتھ ایک ننہ دیکی موضع میں ایک احمدی کے گھر پہنچ گئے۔جب تجھمرہ سٹیشن پر لڑی آگئی تب واپس اپنے گھروں میں آگئے اور تم کو دیکھ کر پھر لوگوں نے ہمیں مغلظ گالیاں دیں لیکن ہم نے صبر کیا۔بیان سید عبد اللہ شاہ صاحب جنرل مرچنٹ۔دکان لے لٹ جانے کے خوف سے مجھے اکثر ایام میں اُسے بند ہی رکھنا پڑتا تھا۔مارچ کو حالات نہایت شدت اختیار کر گئے۔ریلوے سٹیشن چک جھمرہ پرمشتعل لوگوں نے کئی مسافر گاڑیاں روک دیکھی تھیں۔اور اس قدر شور و غوغا بر پا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔بار مارچ کو حالات اور بگڑ گئے اور کوئی چار بجے شام کے قریب تو اچانک یہ نعرے لگنے لگے۔مجلس عمل نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ مرزائیوں کے مکان جلا دو۔مرزائیوں کو لوٹ کو مار دو یا ہر لحظہ مکان پر حملہ کا خوف تھا۔باہر راستے رُکے ہوئے تھے کسی طرف جان بچا کہ