تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 118 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 118

دو پہر آئی۔ان مولویوں نے نہایت اشتعال انگیز تقریریں کیں۔لوگوں کو کہا کہ وہ احمدیوں کو ماریں اور لوٹیں مگر برادری کے نیک اثر کی وجہ سے گاؤں میں شرارت پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے قریب ہم ہر مارچ کو ہمارے گاؤں کے قریباً دس احمدی طلباء لکڑیانوالہ ڈی۔بی ڈل سکول میں گئے تو سکول کے طالب علموں نے اُن کو مارا۔پولیس کو رپورٹ دی ہیڈ ما سٹرنے ہم سے کہا کہ لڑکوں کو سکول نہ بھیجا کریں۔حالات قابو سے باہر ہیں۔مورخہ ۳ ر اپریل کو بغیر کسی وجہ کے میرے گھر کی تلاشی لی لیکن پولیس کوئی چیز قابل مواخذہ و اعتراض قبضہ میں نہ لے سکی ؟ ڈھکوٹ = - بیان جناب محمد عبد اللہ صاحب دو میں منڈی ڈھکوٹ میں دکان آڑ بہت کہتا ہوں۔دکان مذکورہ میں میرا حصہ دار غیر احمدی مسمی غلام مرتضیٰ متھا۔غیر احمدیوں نے میرے حصہ دار کو مجبور کر کے جبر امجھے دکان علیحدہ کروا دیا۔اور بائیکاٹ کر دیا۔اب میں نے اسی شہر میں دوسری جگہ وکان حاصل کر لی ہے لیکن میرا مکمل بائیکاٹ ہے اور کسی گاہک کو میرے پاس نہیں آنے دیا جاتا۔مورخہ ۵ر مارچ کو میرے گاؤں چک نمبر ۱۳۲ میں جلوس نکالا گیا اور میرے گھر پر حملہ کے لیے آئے مگر بعض لوگوں اور پڑوسیوں کے روکنے سے وہ شرارت سے باز رہے “ بچوہدری محمد نواز صاحب آڑھتی نے انہی دنوں بتایا کہ : ء سمندری اور میں احمدی ہوں جوکہ بمقام سمندری آڑہت کرتا ہوں۔مارچ سوا کو شورش میں میرا پورا پورا بائیکاٹ کیا گیا اور۔۔۔۔۔تقریبا چار ہزار روپیہ جو کہ میرا غیر احمدی اصحا کے ذمہ واجب الوصول تھا میرے خلاف پراپیگنڈا کر کے روپیہ منبط اور خرد برد کر وا دیا گیا ہے۔بلکہ یہاں تک کہ کسی غیر احمدی دوست کو اب تک بھی میری دکان پر آنے نہیں دیا جا تاکہ اس ناجائز فعل سے مجھے سخت نقصان ہوا ہے۔جڑانوالہ ) - جماعت احمدیہ جڑانوالہ کو ایام فسادات میں کن صبر آنہ ما حالات سے دوچار جماعتامی و میں آنها سے ہو نا پڑا ؟ اس کا کسی قدر نقشہ جڑانوالہ کے تین احمدیوں کے بیانات سے سامنے آسکتا ہے۔: