تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 115
مورفه ، مارچ بروز هفته به اشتعال انگیزی انتہا تک پہنچ گئی۔تقریباً ساڑھے چار بجے بعد دو پر اچانک شہر میں ہرچ گیا۔لوگ ادھر سے اُدھر دوڑنے بھاگنے لگے۔شور میں صاف آوازیں آ رہی تھیں کہ مجلس عمل نے فیصلہ دیدیا ہے کہ مرزائیوں کو لوٹ لو۔مار دو۔ان کے مکان جلا دو۔میرے مکان کے سامنے ایک مخالف رہتے ہیں۔یہ مشتعل ہجوم کو اور زیادہ استعمال دلانے کے لیے میرے مکان کی طرف اشارہ کر کے پکارنے لگے یہاے مسلمانو با تم ان مجاہدوں کی اولاد ہو جو فولادی قلعے توڑ دیتے تھے۔کیا تم سے یہ معمولی کھڑکیاں دروازے نہیں ٹوٹتے کا ہجوم میں کچھ اس قدر جوش و خروش تھا کہ لبس یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا ایک لمحہ میں ہی یہ لوگ دروازے توڑ کر اوپر آیا چاہتے ہیں اور ہم سب کو تہ تیغ کر ڈالیں گے۔میرے بیوی بچے بے اختیار ہو کہ چیخ پکار کرنے لگے۔اس مکان کی نچلی منزل میں ایک مہاجر کنبہ رہتا ہے۔یہ گریہ وزاری دیکھ کہ ان کی ایک عورت نے میری بیوی سے اصرار کیا کہ ہم سب سے نیچے چلیں تاکہ وہ ہمیں اپنے مکان کی پچھلی کوٹھڑی میں مقفل کر دے اس طرح شاید بچاؤ کی کوئی صورت پیدا ہو جائے مگر سامنے کی ایک اور ہمسائی نے اسے دیکھ لیا اور وہ پکاری کہ تو انہیں کب تک چھپائے گی۔لوگ تو ابھی پہنچ رہے ہیں۔چنانچہ ہم نے نیچے جانے سے انکار کر دیا۔اس اثنا میں شام کا دھندلکا ہو گیا اور ہم ایک ایک کر کے مکان کھلا چھوڑ کر نکل گئے اور ایک لیے راستے سے کھیتوں میں سے ہوتے ہوتے موضع بھگوان سنگھ والا میں جہاں کہ ایک احمدی زمیندار خاندان بستا ہے گرتے پڑتے پہنچ گئے۔دوسرے دور دو اور احمدی خاندان اسی صورت حالات میں وہاں پناہ گزین ہوئے۔۳ روز بعد قدرے امن ہونے پر ہم واپس اپنے گھروں میں آگئے۔بائیکاٹ پھر بھی جاری رہا اور جلوس نکلتے رہے مگر جوش و خروش کافی مدھم پڑ چکا تھا۔مقامی چوکی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل سید محمد یوسف شاہ اور ایک اور کانسٹیبل منشی سدے خان گاہ گاہ جماعت احمدیہ کے افراد کی خبر گیری گرتے رہے۔۳ر اپریل بروز جمعہ اچانک پولیس افسران میرے مکان پر آئے اور تمام مکان کی تلاشی لے لی مگر کسی قسم کا قابل اعتراض لٹریچر بر آمد نہ ہوا ۲ - بیان جناب مولوی عبد الغنی صاحب شریک مجر ڈی۔بی۔ہائی سکول چک جھمرہ -