تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 114 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 114

۱۰ مارچ ۶۱۹۵۳ لائلپور کے ڈی سی کے تدبیر اور نیک نیتی سے قیام امن کی کوششوں سے احرار کا فتنہ درب گیا۔کہ فیو ارڈر نے فسادیوں کے حوصلے توڑ دیئے۔تحقیقاتی عدالت (فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء) کی مضافات لائلپور کے واقعات ہوں میں ضلع لاہور کے متعلق لکھا ہے : رپور۔: ہ ضلع کے جن دوسرے قصبوں پر شورش کا اثر ہوا وہ یہ تھے ، چک جھمرہ ، جڑانوالہ، ڈھکوٹ سمندری ، تاندلیانوالہ، گوجرہ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور کمالیہ وغیرہ۔لیکن ان مقامات پر قوت کے استعمال کی ہرگز مرورت نہیں پڑی اور احمدیوں کے جان ومال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ہے لیکن عدالتی بیان صدر انجمن احمدیہ میں لکھا ہے کہ : لائلپور کے مضافات اور دوسرے چکوں میں احمدیوں پر آلات قتل سے حملے کیے جاتے تھے جس کے نتیجہ میں بارہ احمدیوں کو شدید ضربات پہنچیں اور بہت سے احمدیوں کا پولیس نے خلاف قانون چالان کیا کیا ضلع لائلپور کے متعلق رپورٹ اور عدالتی بیان دونوں میں بہت ہی اختصار سے کام لیا گیا ہے حالانکہ شہر لائلپور کی طرح ضلع لائلپور کے قصبات و دیہات میں بھی احمدیوں کے خلاف انتہائی ول آزار ہنگامے کھڑے کیے گئے جیسا کہ مندرجہ ذیل بیانات سے عیاں ہو گا : - چک جهمره | اس بیان جناب محمد یوسف صاحب بھی اسے بی ٹی : چک جھمرہ مکہ میں میں چک مد میں ڈی۔بی ہائی سکول چک جھمرہ کا سیکنڈ ماسٹر ہوں اس قصبہ میں تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں مقامی مجلس احماد نے نہایت اشتعال انگیزی سے کام لیا۔کوئی مہینہ بھر سے احمدیوں کا مکمل بائیکاٹ تھا۔نہ انہیں بازار سے سودا ملتا تھا نہ وہ کسی جگہ آزادانہ آجا سکتے تھے۔دن بھر جلوس نکلتے جن میں جماعت احمدیہ کے بزرگوں کو مخش زین گالیا دی جاتیں اور احمد ہی گھروں کے سامنے ان کی بہو بیٹیوں کے نام لے لے کہ گندے نعرے لگائے جاتے۔ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۱۸۹ (اردو)