تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 93
۔بہت امن پسند ہے۔وہ دوست اس چھٹی کو لے کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کل یہ جلوس آرہا ہے۔کوئی مناسب تجویز کی جائے تاکہ جلوس خیریت سے گزر جائے اور شور و شر بھی نہ ہو۔میں نے کہا کہ آپ کے خیال میں کیا ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ تم اپنی جماعت کو سنبھال لو۔وہ کسی قسم کی جلوس میں مداخلت نہ کریں۔ہم پوری کوشش کریں گے کہ جلوس پر امن طور پر گزر جائے۔چنانچہ خاکسار نے جماعت کی مستورات اور بچوں کو دور جگہوں میں محفوظ کر کے مردوں کو دو مناسب جگہوں پر بٹھا دیا۔اُس دن اکثر نظریں ہماری طرف اس حسرت سے اُٹھ رہی تھیں کہ آج دو بجے تک یہ (احمدی) لوگ تو ختم ہو جائیں گے اور ان کے مال اسباب پر ہم قابض ہوں گے۔اکثر لوگ ہمارے مال مویشی دیکھ دیکھ کر پسند بھی کر رہے تھے کہ آج دو بجے کے بعد یہ سب کچھ ہمارا ہو جائے گا۔لوگوں کی زبانی سنا کہ یہ احمد می لوگ خوش کیوں نظر آتے ہیں مگر ان کو یہ پتہ نہیں کہ ان کی زندگی صرف دو بجے تک ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے چہرے اور ہمارے دلے سوائے چند نام کے احمدیوں کے بہت شگفتہ اور دلیر تھے۔بندہ نے اپنی جماعت کو مبر اور برداشت کی بہت تلقین کی اور حضور کے ارشادات جو صبر کے متعلق تھے پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ہر طرح امن کو قائم رکھنا ہے اور خرام کی قصبہ کے باہر ڈیوٹی لگا دی ایک خادم کو پسر دور میں مقرر کر دیا کہ وہ بار بار یہ اطلاع دے کہ جلوس کسی تعداد میں ہے اور کیا کرتا آرہا ہے۔کچھ خدام کو قریب کی جماعتوں کو اطلاع دینے کے لیے بھی مقرر کر دیا۔مگر اس کے بعد کیا ہوا۔لوگ تو جلوس کی آمد کی گھڑیاں گن رہے تھے۔بارہ بجے ، ایک بجے۔دو بجے مگر جلوس نہ آیا۔آیا تو کون آیا ؟ ایک وفدا وہ بھی اس لیے کہ وہ رات والا رقعہ واپس لے جائے جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ تمہارے مال جان خطرہ میں ہیں۔مگر رقعہ اُن کو نہ ملا۔سارا دن بالکل بخریت گزرگیا۔اور پانچ بجے شام فوج کے بہت سے سپاہی، علاقہ مجسٹریٹ صاحب اور سپیشل پولیس نے آکر لوگوں کو بہت ڈانٹا مگر ہم نے کلا سوالہ کے شریعت غیر احمدیوں کی سفارش کردی کہ یہ لوگ بہت امن پسند ہیں یا چوہدری بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ دانہ نہید کا نے لکھا کہ :۔والہ زید کا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے حلقہ میں بالکل امن و امان ہے۔البتہ غلط