تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 92 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 92

۹۴ میں جلوس جائے گا اور پھر وہاں سے کھیوہ بھی جائے گا لیکن اللہ تعالے کا خاص فضل رہا کہ صرف اور صرف پسر در تک ہی فتنہ و فساد محدود رہا۔بعض افراد کلا سوالہ سے نکلے اور ہمارے گاؤں میں آگئے پسرور اور جماعت چو ہر منہ میں چند غنڈوں نے ہمارے پر پذیڈنٹ دین محمد کو قتل کر دینے کی دھمکیاں دیں۔اس نے میرے پاس رپورٹ کی تو میں پسرور تھا نہ میں گیا۔تھانیدار صا حب نے میرے ساتھ تین ملٹری کے سپاہی اور ایک حوالدار کر دیا۔چوہر منڈہ تھانہ سے تقریباً آٹھ میل ہے۔وہاں حوالدار نے ان سے باز پرس کی تب انہوں نے انکار کر دیا کہ ہم نے کوئی بات نہیں کی۔حوالدار نے ان سے وعدہ لیا کہ اگر اس کے بعد کوئی شکایت ان کی طرف سے ہمیں پہنچی تو تم ذمہ دار ہو گے اور صرف تمہیں ہی گرفتار کر کے لے جایا جائے گا۔اس کے بعد بالکل امن ہے۔اور کلا سوالہ سے جو دوست نکلے علاقہ مجسٹریٹ نے خود آکر کا سوالہ کے لوگوں سے کہا کہ ان کو خود جا کر واپس لاڈورنہ اگر کوئی ان کا نقصان ہوا تو تم ہی ذمہ دار ہو گئے۔تب کلا سوالہ والے خود آکر اُن کو تا نگر میں بھا کرے گئے باقی تمام علاقہ میں خیریت ہے۔خطرہ تو ہمیں بھی بہت ہو چکا تھا لیکن کسی نے بعد میں کوئی مظاہرے نہیں کئے میاں کلا سوالها عبد الغنی صاحب عبد قائد مجلس خدام الاحمدیہ کلا سوالہ نے لکھا کہ : - در کلا سوال پسرور سے چار میل کے فاصلہ پر ہے اور احرارہ اور مخالفین تحصیل پسرور کا مرکز ہے۔بروز جمعہ پسرور میں نماز جمعہ کے موقعہ پر یہ اعلان ہوا کہ کل کار مارچ کو پسر در سے ایک جلوس جو کئی دیہات میں سے ہوتا ہوا اور احمدیوں کو مسلمان یا ختم کرتا ہوا گلا سوالد پہنچے گا۔شام کو 4 بجے پولیس کی طرف سے زبانی مجھے یہ اطلاع ملی کہ جلوس کل کلا سوالہ آرہا ہے اور پولیس اس کا انتظام نہیں کر سکتی۔آپ خود کوئی انتظام کر لیں۔یہ خبر سن کر بفضلہ تعالی ہم ہر طرح سے مطمئن تھے اور ہمارے دلوں میں کسی قسم کی گھبراہٹ نہ تھی۔ہم نے اپنے لیے مناسب انتظام ہر طرح سے کر لیا۔اس کے بعد ایک چٹھی پسر در سے جماعت احمرارہ کی جانب سے کلاسوالہ کے دیگر معززین کے نام آئی کہ ہمارا جلوس پہنچ رہا ہے۔اگر آپ نے ہمارے جلوس میں شمولیت نہ کی تو تمہاری جان۔مال بھی خطرہ میں ہو گا۔کلا سوالہ میں دو جماعتیں ہیں۔اہلحدیث اور حنفی جماعت حنفی جماعت کا چونکہ نہ ور ہے اور میٹھی بھی حنفی جماعت کے آدمیوں کو ہی ملی تھی۔حنفی جماعت یہاں کی