تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 72
44 واسطہ باقی نہیں رہتا اور دوسری طرف جس طرح یونانی جب لڑتے ہیں تو وہ آپس میں ایک کو دوسرے کے ساتھ باندھ دیتے ہیں تا کہ وہ اگر مریں تو اکٹھے مریں اسی طرح اسلام بھی ایک انسان کو دوسرے کے ساتھ باندھ دیتا ہے پیس حقیقت یہی ہے کہ اتحاد موجودہ حالات اور افراد سے اتحاد کا نام ہے۔اتحاد اس بات کا نام ہے کہ موجودہ حالات اور افراد سے کام لیا جائے اور ترقی کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ حالات اور افراد میں اختلاف پیدا کیا جائے جب تک تجربہ اور تھیوری سے اختلاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکتی۔غرض انفرادیت کے بغیر ترقی مشکل ہے اور اتحاد کے بغیر امن قائم رکھنا مشکل ہے۔قرآن کریم نے ان دونوں کو تسلیم کیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے واطیعوا قرآن مجید کی تعلیم اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَارَهُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذَهَبَ المُكُمْ وَاصْبِرُوا اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (انفال : ٤٤) ائے مسلمانو! تم آپس میں اختلاف نہ کرو۔اگر تم آپس میں اختلاف کرو گے تو کمزور ہو جاؤ گے اور دشمن سے شکست کھا جاؤ گے۔تم ہمیشہ اکٹھے رہنا اور ایک دوسرے کے مدد گار رہنا۔واصبا روا اور چونکہ اکٹھے رہنے میں تمہیں کئی مشکلات پیش آئیں گی اس لئے تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا۔جب تم اجتماعیت کی طرف آؤ گے تو کئی جھگڑے پیدا ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شکوہ پیدا ہو جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ آپ مال غنیمت تقسیم فرما ر ہے تھے ایک شخص نے کہا کہ اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا جا رہا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے شخص اگر این انصاف نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا؟ حضرت عرض بھی وہاں موجود تھے آپ نے تلوار نکال لی اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ اجازت دیں تو میں اس کی گردن کاٹ دوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانے دو اس شخص نے بے شک غلطی کی ہے لیکن اگر اس کی گردن کاٹ دی گئی تو لوگ کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے لیے پس اگر اُس زمانہ کے لوگ بھی شکوہ کر دیتے تھے اور اختلاف کا اظہار کر دیتے تھے تو پاکستان اور شام اور عراق اور ارون کے لوگ کیوں نہیں کر سکتے ؟ غلطیاں ہو جاتی ہیں اور لوگ شکوہ بھی کرتے ہیں پھر تم کیا کرو لے مسند احمد بن مقبل جلد ۳۵۳۵۳