تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 73
از فرمایا واصبر واتم صبر کرو۔اور مجھ پر امید رکھو ئیں خود اس کا بدلہ دوں گا۔پھر فرماتا ہے واعتصموا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ( آل عمران رکوع 11) اے مسلما نو ا تم سارے مل کواللہ تعالٰی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔اگر تم نے تفرقہ کیا تو اس کے نتیجہ میں تمہاری طاقت زائل ہو جائے گی۔یہ اجتماعی اتحاد کی دعوت ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے مذہب کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں وہ بے دین ہیں۔گویا قرآن کریم اختلاف و اتحاد دونوں کو تسلیم کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے کلام میں بھی اختلاف اور اتحاد دونوں کو تعلیم کیا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَهُ به میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اختلاف کو بجائے عذاب کے رحمت قرار دیتے ہیں اور اختلاف کرنے والے دونوں فریق کو اپنی امت قرار دیتے ہیں۔لیکن دوسری طرف آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ جماعت سے بالشت بھر بھی علیحد ہوا وہ ہم میں سے نہیں۔گویا آپ نے ایک طرف یہ کہا کہ اختلاف رحمت ہے اور دوسری طرف یہ کہا کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہو گا وہ ہم میں سے نہیں یعنی وہ مسلمان نہیں رہے گا۔ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ جب تفرقہ ہو گا تو میں کیا کروں۔کیا میں تلوار لوں اور لوگوں کا مقابلہ کروں۔آپ نے فرمایا نہیں۔اُس صحابی نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ پھر یں کیا کروں۔تو آپ نے فرمایا۔۔۔جس طرف جماعت ہے ہو تم اسی طرف پہلے جھاؤ۔گویا آپ نے ایک طرف انفرادیت پر اس قدر زور دیا ہے کہ اختلاف امت کو رحمت قرار دے دیا اور دوسری طرف یہ شدت ہے کہ اگر تم پر ظلم بھی کیا جائے تب بھی تم اختلاف نہ کرو بلکہ جماعت کا ساتھ دو۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم دونوں نے اختلاف اور اتحاد دونوں کو تسلیم کیا ہے یہ۔۔له "كنوز الحقائق » (از حضرت علامه امام عبد الرؤوف مناوی) نے ابو داؤد میں ہے " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيْدَ شِرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلَامِ عَنْ عُقِهِ ذ کتاب السنه) بخاری کتاب الاحکام میں ہے کس اَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبُرَا فَيَمُونَ الأَمَات مِسْتَةً جَاهِلِيَّةِ " แ سے بخاری کتاب الفتن کے الفاظ ہیں" تلزِمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ