تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 71 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 71

Ул صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سزاد ینے کا حق نہیں سزا دینے کا حق قاضی کو ہے۔اگر وہ اپنی بیوی کو بد کاری کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو اُسے قاتل سمجھ کر موت کی سزادی جائیگی اب دیکھو اسلام اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اسلام یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہمیں بدلہ لیتے میں جلد بازی سے کام تو نہیں لیا گیا۔کیا جرم کی تحقیق کے سامان پوری طرح مہیا کئے ہیں ؟ اور یہ باتیں قاضی دیکھ سکتا ہے دوسرا نہیں۔اگر چہ یہ انفرادی حتی ہے لیکن کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے لے۔مجرم کو سزا صرف حکومت کے ذریعہ ہی دلائی جا سکتی ہے ؟ پھر فرضیت جہاد ہے۔جہاد بھی اکیلا شخص نہیں کر سکتا بلکہ جب جہاد فرض ہو گا تو ساری جہا د قوم لڑے گی پیس جہاد بھی ایک اجتماعی چیز ہے۔اسلام کہتا ہے کہ جب امام کہے کہ آپ جہاد کا موقعہ ہے تو ہر سلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فرمینیہ کو پورا کرے اور اگر کوئی مسلمان اس فرض کو گورا نہیں کرتا تو وہ شریعت اور قانون کا مجرم ہے یہ ایک اجتماعی محکم ہے پس جو شخص یہ کتا ہے کہ اسلام انفرادی مذہب ہے وہ غلطی پر ہے۔اسلام انفرادی مذہب نہیں بلکہ اجتماعی جهاد مذہب ہے۔" اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام ایک طرف تو انفرادیت کی حقیقت انفرادیت و اجتماعیت سر تسلیم کرتا ہے اور نہ صرف تسلیم کرتا بلکہ اسے ضروری قرار دیتا ہے اورده و دو تیری طرف وہ اجتماعیت کی تعلیم دیتا ہے یہ دونوں چیزیں اکٹھی کیسے ہوسکتی ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں لیکن دراصل یہ تضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مددگار ہیں۔ان دونوں کو جمع کئے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔جس مذہب نے صرف انفرادیت کی تعلیم دی ہے وہ بھی تباہ ہوا ہے۔کوئی مذہب اور کوئی حکومت اپنے لئے ترقی کا راستہ نہیں کھول سکتی جب تک وہ ان دونوں چیزوں پر بیک وقت تکمیل ہو کر رہی ہو۔اگلے زمانہ میں خدا سے تعلق محض انفرادیت کے طور پر ہوتا تھا لیکن صحیح راستہ انفرادیت اور اجتماعیت کے درمیان ہے۔جیسے اگلے جہان میں ایک پُل صراط ہوگی یہ اس دُنیا کی پل صراط ہے۔اسلام دونوں چیزوں کو ایک وقت میں بیان کرتا ہے۔ایک طرف وہ انسان کو انتا بند کرتا ہے کہ اسے عرش پر پہنچا دیتا ہے اور اس کے درمیان اور خدا تعالیٰ کے درمیان کوئی