تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 60
چلتی جاتی ہیں کیونکہ ان میں ہر ایک کو مزا ملتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نبی بھیجتا ہے۔انہیں ماریں پڑتی ہیں۔دکھ دیئے جاتے ہیں اور بعض اوقات انہیں جانیں دینی پڑتی ہیں۔اس طرح بڑی قربانی اور ایشیار کے بعد ایک جماعت بنتی ہے اور شیطان اُسے پھر خراب کر دیتا ہے۔انبیاء نے اپنے اپنے زمانہ میں ترقی کی لیکن جب ان کا زمانہ ختم ہونے کا وقت آیا تو شیطان نے کتنی جلدی انہیں ختم کر دیا ؟ عرض شیطانی آوازہ کی طرف لوگ جلد آتے ہیں کیونکہ انہیں تر قیمہ ملتا ہے وہ آخرت کو بھولی جاتے ہیں۔اس لئے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو مجھے اور قومی احساس پیدا کرے پانے قوم کی بے لوث خدمات بجالانے کی تلقین میلیون ریالی و استار حضرت مصلح موعود نے ۱۳۳۱ فروری ۱۹۵۲ء کے خطبہ جمعہ میں بتایا کہ قومی خدمات اپنے اندر بھاری برکات رکھتی ہیں۔اس ضمن میں ان کے فوائد اور بلند معیار کی وضاحت درج ذیل الفاظ ہیں فرمائی : ایک لیڈری شیطان بن کر ملتی ہے اور ایک لیڈری خدا تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔دنیا میں ایسے خوش قسمت لوگ تھوڑے ہوتے ہیں جن کو فریب دھوکہ بازی اور منصوبہ بازی کے بغیر لیڈ رہی مل جائے بعض لوگ قوم کی خدمت کرتے ہیں اور این طرح آگے آجاتے ہیں مثلاً سرسید علی گڑھی ، مولانا محمد علی جوہر، میاں فضل حسینی اور قائد القسم محمد علی جناح ، سراقبالیہ یہ وہ لوگ تھے جن کو تمام مسلمان جانتے ہیں۔انہوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لئے کوئی کام نہیں کیا بلکہ محض قوم کی خدمت کی نتیجہ یہ ہوا کہ خد اتعالیٰ انہیں آگے لے آیا مگر ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوتے ہیں ورنہ چھوٹی چھوٹی انجمنوں تک میں ہزاروی ریشہ دوانیاں ہوتی ہیں کہ کسی طرح کوئی خاص پارٹی آگے آجائے اور غرض یہ ہوتی ہے کہ زید یا بلکہ اس المین کے لیڈر بھی جائیں سیکرٹری بن جائیں یا انہیں کوئی اور مشہدہ مل جائے۔ایسے آدمی جنہوں نے قوم کی خدمت کی اور آگے آئے وہ کروڑوں کی جماعت میں درجنوں اور بیسیوں کے اندر ہی رہ جاتے ہیں لیکن ہماری جماعت میں بغیر کسی تقسیم کے دھوکہ، فریب اور منصوبہ کے آپ ہی آپ نظام کے ماتحت کچھ لوگ اور پر له الفضل ۱۵ تبلیغ ۳۳۱ ایش/ فروری ۶۱۹۵۲ ص ، من به له وفات ۶۱۸۹۸ سے وفات ۶۱۹۳۱ ؛ نه وفات ۶۱۹۳۶ : شه وفات استمبر ۱۹۴۸ شه وفات ۲۰ را بپریل ۶۱۹۳۸