تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 59
شخص قربانی کرتا ہے اور یہ نہیں کہتا کہ ایسا کرنا فرض نہیں نفل ہے۔اسی طرح جو شخص اسلام اور احمدیت سے سچی محبت رکھتا ہے وہ یہ نہیں کہے گا کہ ان کی اشاعت کی خاطر قربانی کرنا فرض نہیں بلکہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے قربانی کرنا اسے فرض سے بھی زیادہ پیارا لگے گا کیونکہ وہ سمجے گا کہ ایسا کرنے سے اسلام کو دوبارہ شوکت و عظمت حاصل ہو جائے گی بلکہ جب تبلیغ جہاد کا ایک حصہ ہے تو اس میں حصہ لینا فرض ہی کہلانے کا مستحق ہے یا اے اخلاق فاضلہ کے قیام کی جدوجہد اصلی این جوری ۱۹۹۲ کوکسین مهر ۱۲۵ ۱۳۳۱ / حضرت کیا اور ایک توی اخلاق کو یہ اسنج کرنے کے لئے ہمیں اجتماعی جد و جہد کی ضرورت ہے۔چنانچہ حضور نے خطبہ کے پہلے حصہ میں فرمایا کہ :۔ہم نے دنیا کے سامنے یہ نمونہ پیش کرتا ہے کہ اخلاق فاضلہ دنیا سے مٹ گئے تھے آپ جماعتِ احمدیہ اخلاق فاضلہ پر قائم ہے اور ہر نیا تغیر جو رو نما ہوتا ہے، ہر خرابی جو پیدا ہوتی ہے اس سے اگر ہم بھی متاثر ہو جاتے ہیں تو ہم دنیا کے سامنے نمونہ پیش کیسے کر سکتے ہیں ہمیں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے جرائم میں قومی اثر کبھی ضرور داخل ہوتا ہے مثلاً چوری ہے ، ڈاکہ ہے، یہ ایک شخص کا فعل نہیں ہوتا بلکہ ایسا فعل کرنے والوں کو اس کے ہمسائے بھی جانتے ہیں۔اگر سارے لوگوں کے اندر غیرت پیدا ہو جائے اور احساس پیدا ہو جائے تو ایسے لوگوں کا پکڑا جا نا آسان ہے۔مثلاً حرام خوری ہے دکاندار ٹھگی کرتے ہیں وہ اچھی چیز میں خراب چیز کی آمیزش کر دیتے ہیں تو اس کا ہر گاہک کو پتہ ہوتا ہے۔اگر شخص بجائے یہ کہنے کے کہ مجھے مصیبت اُٹھانے کی کیا ضرورت ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور کہے کہ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا تو دیکھ لیں ایسے لوگ فوراً اپنی اصلاح کرلیں گے یہ خطیہ کے آخر میں اس نکتہ معرفت کی طرف متوبقہ فرمایا :- شیطانی کاموں کے لئے قربانی اور ایثار کی ضرورت نہیں ہوتی قربانی اور ایثار کی ضرورت خدائی کاموں کے لئے ہوتی ہے شیطانی کو نبی بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوتی شیطانی باتیں خود بخود الفضل ۲۴ صلح ۱۳۳۱ امیش کر جنوری ۱۹۵۲ء ص - ص :