تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 61
۵۹ آ جاتے ہیں اور جماعت کی باگ ان کے ہاتھ میں آجاتی ہے۔ان کی زندگیوں میں تو ایک تغیر ہونا چاہئے تھا جس طرح خدا تعالیٰ نے ان سے سلوک کیا ہے اور انہیں بلا استحقاق قوم کا لیڈر بنا دیا ہے اسی طرح ان کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے لیڈر بنیں جن کی مثال دنیا میں ملنی مشکل ہو۔ان کے کام اپنے نفس کی خاطر نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے کردار ان کے افعال ، ان کے اخلاق اور ان کے طریق خالصہ مذہب کے لئے وقف ہوں۔اور جب کسی کی زندگی خا لصہ کسی مذہب یا جماعت کے لئے ہو جاتی ہے تو اس کے عمل میں دیوانگی پیدا ہو جاتی ہے۔وہ ڈاک خانہ بن کر نہیں رہ جاتا کہ چند خطوط کا جواب دے دیا اور مجھ لیا کہ بڑا کام کیا ہے بلکہ ایسا شخص رات دن کیمیں سوچتا ہے کہ کس کس طرح یکی اپنی قوم کو اونچا کروں جس کی وسعہ سے اُسنے عزت ملی ہے حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالٰی کی خاطر جو خدمات کی جاتی ہیں وہ پہلے در پے نفع لاتی ہیں ان کی یہ خدمت بھی بلا معاوضہ نہیں ہوتی۔فرضی که و جماعت اب تین لاکھ کی ہے اور وہ قربانی کرتے ہیں اور تعداد تین لاکھ سے چھ لاکھ ہو جاتی ہے، تو انہوں نے صرف قوم کی خدمت نہیں کی انہوں نے اپنی خدمت بھی کی ہے۔وہ پہلے تین لاکھ کے لیڈر تھے اب چھ لاکھ کے لیڈر ہو گئے۔اگر وہ اور قربانی کریں اور تعداد بارہ لاکھ ہو جائے تو یہ خدمت اسلام کی بھی ہوگی مگر ساتھ ہی اپنی خدمت بھی ہو گی کیونکہ کل وہ کچھ لاکھ کے لیڈر تھے تو آج وہ بارہ لاکھ کے لیڈر بن گئے ہیں۔غرض ان کے اندر ایسی دیوانگی ہونی چاہئیے جو دوسری قوموں میں نہ ملے ہے چوہدری محمد حسین صاحب کی نیکم فروری ۱۹۵۲ء سے احراری لیڈروں نے سندھ کو اپنی اشتعال انگیز سر گر میوں کا مرکز بنا لیا اور کانفرنس ریاست خیر پور میں المناک شہاد منعقد کرکے صوبہ کی فضا کو اس درجہ مندر کر دیا کہ۔فروری ۱۹۵۲ء کو ایک مخلص احمدی چوہدری محمد حسین صاحب گیسٹ ریاست خیر پور میرس سندھ پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا۔چوہدری صاحب کو ہسپتال پہنچایا گیا جہاں آپ ۲۲ فروری ۱۹۵۲ء کو رحلت کر گئے پہلے له الفضل ۱۷ تنبلین ۳۳۱ ہش / فروری ۱۱۹۵۷ ۲۰ ، ص : ن الفضل مامان ۳۳۱ مش / مارچ ۱۹۵۲ء ص به