تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 490 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 490

۳۸۰ خاموشی کی زندگی گزارنی پڑی لیکن ان کی خوش قسمتی کہ چند مهاجرین مولوی صاحبان“ جو یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کو قیام پاکستان سے اتنا فائدہ نہیں پہنچا ہے جتنا کہ وہ خود کو تصور فرماتے تھے ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور ان کو اس کا موقع مل گیا کہ وہ احمدی اور غیر احمدی کا فتنہ کھڑا کر کے اس پر دہ ہیں دوباره سیاست کے میدان میں آجائیں ہم جانتے ہیں کہ احراریوں نے یہ تحریک کسی دینی جذبہ کے ما تخت شروع نہیں کی ہے بلکہ وہ مذہب کے پردہ میں دوبارہ سیاسی عروج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی اس خود غرضی اور مطلب پرستی کے متعلق ہمیں کچھ عرض نہیں کرتا ہے وہ ہمیشہ اس ذہنیت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور آج بھی اپنی سابقہ روایات پر عمل کر رہے ہیں ہمیں افسوس تو ان دوسرے علماء کرام پر ہے جو اس فتنہ میں شریک ہو گئے ہیں اور اس طرح نا دانستہ طور پر نہ صرف اپنے وطن کو بلکہ در حقیقت اسلام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔آج سارے اسلام کے علماء اس اجتہاد و تبدیلی کے شاکی ہیں جومسلمانوں کے مغربی تعلیم یافتہ طبقہ میں عام ہوتی جارہی ہے لیکن وہ یہ بھولتے ہیں کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو مذہب سے دور کرنے میں مغربی تعلیم کا اتنا ہاتھ نہیں ہے جتنا کہ ان اجارہ داران دین و ملت کا ہاتھ ہے جو نہ علم وفضل پر فائز نظر آتے ہیں۔اگر آج کی لسٹ بے دین نظر آتا ہے تو اس میں مارکس کی مادہ پرستی کا اتنا ہاتھ نہیں ہے جتنا کہ زارینہ کے اس سازشی اور غلط کار پادری کا ہاتھ ہے جس نے مذہب کو حکومت ا کھلونہ بنا دیا تھا۔ہمارے علماء کرام کی قدامت پسندی گفر سازی ، تنگ نظری اور شدید قسم کی متعصبانہ روش نے تعلیم یافتہ طبقہ کو نہ صرف یہ کہ علماء کی جانب سے بدظن کر دیا ہے بلکہ ان میں مذہب کی جانب سے بھی بیزاری پیدا کر دی ہے۔پاکستان کے علماء بھی بدقسمتی سے رواپنی کٹھ ملاؤں کا کردار انجام دے رہے ہیں اور اس طرح وہ احمدیوں کے مقابلہ میں خود اسلام کو زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں تعلیم یافتہ مسلمان جب اس قسم کی حرکتوں کو دیکھتے ہیں اور مذہب کے نام پر علماء کرام کی تنگ نظرانہ روش کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان میں مذہب کی جانب سے مایوسی پھیل جاتی ہے۔پاکستان میں ابھی ہی ہو گا۔آج نہیں تو کل تعلیم یافتہ طبقوں میں مولویوں کی اس روش کا رد عمل نہایت ہی شدت سے نمایاں ہوگا اور اس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ علماء کرام کی عزت کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ ان دینی جذیہ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جو آج پاکستان میں موجود ہے۔