تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 491
تر کی میں علماء کی اسی تنگ نظری نے جو نتائج پیدا کئے وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ایران میں علماء کا جو حشر ہوا وہ ہمارے سامنے ہے، اور شام و مصر میں جو حالات پیدا ہوئے ان سے بھی ہم واقف ہیں۔قسمتی سے پاکستانی علماء بھی اس غلط راہ پر چل رہے ہیں جس پر ترکی اور ایران کے علماء چلے تھے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے جلد ہی اپنی روش تبدیل نہیں کی تو ان کو بھی انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا جن سے ترکی اور ایران کے علماء دو چار رہ چکے ہیں۔ظاہر ہے کہ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ان حالات کو زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کر سکتا۔وہ ملک کی سالمیت پر علماء کے وار دیکھتے ہوئے خاموش نہیں رہ سکتا اسے ایک نہ ایک دن علماء کے خلاف آواز بلند کہ نا پڑے گی۔اور ظاہر ہے کہ جب یہ طبقہ میدان میں آئے گا تو علماء کرام کے ساتھ ہی اسلام کو بھی اس حشر سے دو چار ہونا پڑے گا جس کا ایک ادنی مظاہرہ ہم ترکی میں دیکھ چکے ہیں۔سیاست میں تخریبی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال حد درجہ نقصان دہ ہوا کرتا ہے۔پاکستان میں آج مذہب کو تخریبی سیاست کا آلہ کار بنایا جا رہا ہے۔یہ چیز خود نذہب کے لئے انتہائی نقصان رسال ثابت ہوگی اِس لئے کہ جب پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ یہ محسوس کرے گا کہ مذہب کا بعد درجہ ناجائز استعمال ہو رہا ہے اور مذہب کے نام پر ملک کی وحدت کے پر خچے اڑائے بھارہے ہیں تو وہ لازما مذہب کے خلاف صف آراء ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں کم از کم یہ تو ضرور ہوگا کہ پاکستان کو ایک مثالی اسٹیٹ بنانے کا خواب ہمیشہ کے لئے شرمندہ تعبیر رہ جائے گا اور اسلامی اسٹیٹ کی جگہ ویسی ہی سیکیولر حکومت وجود میں آجائے گی جیسی کہ انتزاع خلافت اسلامی کے بعد ترکی میں جود میں لائی گئی۔اگر پاکستانی علماء اسے پسند نہیں کرتے کہ پاکستان کو غیر مذہبی ریاست بنا دیا جائے اور وہ واقعی ایک مثالی اسلامی مملکت کے قیام کے خواہش مند ہیں تو ان کو اپنی موجودہ تنگ نظرانہ روش ترک کرنا پڑے گی۔مذہب کے نام پر فتنہ آرائی کا راستہ چھوڑنا پڑے گا۔احمدیوں کے نام پر فتنہ آرائی کر کے ممکن ہے کہ چند علماء کو کچھ عارضی شہرت حاصل ہو جائے لیکن یہ شہرت آگے پھل کے بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی علماء کو ان کی موجودہ روش کے باب میں ابھی سے نیتہ کر دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ان کی موجودہ سیاست اسلام مسلمانوں اور خود پاکستان کے حق میں سیم قاتل سے کم نہیں۔اور اگر انہوں نے اسے ترک نہ کیا تو آج وہ جو زہریلے بیج بو رہے ہیں۔ان کے کڑوے