تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 489 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 489

۴۷۹ اقلیت کا ملک بن جائے گا جس پر یہ شعر سو فیصدی صادق آئے گا کہ ے زاہد تنگ نظر نے مجھے کا فر جانا اور کافر یہ سمجھتا ہے سلماں ہوں میں رہا احمدیوں کا سرکاری ملازمتوں سے اخراج کا مسئلہ تو یہ بھی ایک قطعاً مکمل مطالبہ ہے۔سر کاری مناصب کا تعلق اہمیت اور قابلیت سے ہوتا ہے مذہب سے نہیں۔اگر کوئی قادیانی لائق ہے تو اسے ایک نالائق غیر احمدی کے مقابلہ میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کا یقینا زیادہ حق ہے کسی شخص کو محض اختلاف عقائد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت سے محروم کرنا قطعاً غلطہ اور احمقانہ بات ہے اور ہم کسی حالت میں اس کی تائید نہیں کر سکتے اور پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ آج جو مطالبہ قادیانیوں کے میسلسلہ میں کیا جارہا ہے وہی کل دوسرے فرقوں کے متعلق نہیں کیا جانے لگے گا ؟ آج اگر ظفراللہ خال کو قادیانی ہونے کی بنیاد پر وزارت سے تعفی کیا جا سکتا ہے تو کل مسٹر غلام محمد کو پیر وارث علی شاہ سے گہری عقیدت کے جرم میں ان کے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ وجود میں آسکتا ہے۔یہ ای البسالا متناہی سلسلہ ہے جس پر کوئی روک نہیں کی جاسکتی۔اور اگر حکومت پاکستان آج اس احمقانہ مطالبہ کو مان لے تو کل الیسا وقت آ سکتا ہے جب اُسے سرکاری ملازمتوں کے لئے ایک شخص بھی نصیب نہ ہو اس لئے کہ بہر حال ہر سلمان کسی نہ کسی فرقہ سے ضرور متعلق ہوگا اور بدقسمتی سے دوسرے فرقہ کے لوگوں کے نزدیک اس کا گھر اتنا گہرا اور اتنا شدید ضرور ہو گا کہ اسے وہ کسی حالت ہیں سرکاری ملازمت کا اہل نہیں قرار دے سکیں گے۔جہاں تک احراری حضرات کا تعلق ہے ان کی گوری تاریخ مہنگا میای تدری اور فتنہ انگیزی شیل رہی ہے انہوں نے کبھی کشمیر میں تحریک چلا کہ مسلمانوں کو بیوقوف بنا یا اور کبھی اور اینی میشن کا قصہ کھڑا کر کے میواتی مسلمانوں کو مبتلائے مصائب کیا کہ بھی لکھنو میں شیعہ وشتنی جھگڑ اکھڑا کیا تو بھی مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں ملتِ اسلامیہ کو کھلا ہوا نقصان پہنچایا۔یہ قطعا تخریبی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں جو صرف ہنگاموں اور فسادات کی فضا میں زندہ رہنے کے قائل ہیں۔قیام پاکستان کے بعد سے یہ لوگ خاموش تھے اس لئے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ ان کے سابقہ کردار سے بخوبی واقف تھا اور وہ ان کو کسی حالت میں اُبھرنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔عوام میں بھی ان کی ساکھ گھر ہی ہوئی تھی اس لئے کہ ان لوگوں نے قیام پاکستان کی شدید مخالفت کی تھی۔ایسی حالت میں ان کو مجبوراً پانچ سال تک