تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 468
۴۵۸ احمدی جو کئی روز سے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا تھا غصہ میں بھر گیا تھا اور اس نے ایک غیر احمدی کو لوہے کی ایک سلاخ مارکر بے ہوش کر دیا۔اس وقت سے یہ احمدی مغرور ہے اور اس کا کوئی الہ بقیہ معلوم نہی ہیں۔لاہور میں ایک ڈپو ہولڈر نے ایک احمدی عورت کے ہاتھ گیہوں فروخت کرنے سے انکار کر دیا اور آخر اُس وقت مہربان ہو ا جب عورت نے یہ وعدہ کر لیا کہ احمدیوں کے خلاف جو تحریک شروع کی جائے گی وہ اس میں شامل ہو گی سفت نگر کے پرائمری سکول کے ایک طالب علم کو اس کے ہم جماعتوں نے گھیر لیا۔اس کو تھپڑ مار سے اور مرزائی کہتا کے نعرے لگائے۔- یہ شورش صرف اسی صوبہ تک محدود نہیں۔نہ وہ مطالبات جن پر بظاہر یہ شورش مبنی ہے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں داخل ہیں، اِس لئے حکومت کو اس صورت حالات کا مداوا کرنے میں سخت وقت محسوس ہو رہی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ اگر مرکزی حکومت ان مطالبات کے متعلق ایک مضبوط پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کرے تو صوبائی حکومت کے ہاتھ کافی مضبوط ہو جائیں گے۔وہ پالیسی کچھ بھی ہو لیکن اس کے اعلان کے بعد کسی کو اس بارے میں کوئی شعبہ باقی نہ رہے گا کہ حکومت پاکستان کا ارادہ کیا ہے اور وہ کیا رویہ اختیار کرنا چاہتی ہے صو بائی حکومت محسوس کرتی ہے کہ وہ صوبے کے اندر اس پالیسی پر عمل در آمد کرنے کے لئے کافی طاقتور ہے۔آپ کا مخلص (دستخط) ایچ۔اسے مجید انسپکٹر جنرل جتنا پولیس پنجاب کے مراسلہ اسی دن مسٹر انور علی انسپکٹر جنرل پولیس نے چیف سیکرٹری صاحب پنجاب کو حسب ذیل یاد داشت بنام چیف سیکرٹری پنجاب بھجوائی : حکومت غالباً اس تقریر کی رو نداد پر مطلع ہونے کی خواہاں ہوگی جو مولوی محمد علی جالندھری نے طار فروری ۱۹۵۳ء کولاہور کے ایک جلسہ میں کی۔ایک بات خاص طور پر قابل ملاحظہ ہے کہ ایک دفعہ زور فصاحت میں اس مقرر نے اعتراف کیا کہ وہ اور ان کی جماعت تقسیم ملک کے مخالف تھے۔اس نے یہ بھی کہا کہ من وجوہ کی بناء پر تقسیم کے خلاف تھے وہ لوگوں پر ظاہر ہونے چاہئیں لیکن اگر آب تک انہیں ان کا شعور حاصل نہیں ہوا تو ایک یا دو سال کے اندر انہیں سب معلوم ہو جائے گا۔اسنے