تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 467 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 467

۴۵۷ کیا گیا جس میں اعلان کیا گیا کہ وزیر اعظم کے درود کی تاریخ کو ہڑتال کی جائے اور مکانوں کی چھتوں پر کالی جھنڈیاں لگائی بجائیں مقررین نے احتیاط اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے کام نہ لیا جائے لیکن عملاً وہ عوام کے احساسات کو مشتعل کرتے ہیں برابر مصروف رہے بعض مقررین نے اپنی تقریروں میں کہا: که نا فرمانی شروع ہونے کی حالت میں پولیس کے جن ملازموں کو گرفتاریاں کرنے کا حکم دیا جائے انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ روز قیامت، انہیں ان افعال کے لئے جواب دہی کرنی پڑے گی جوانی کے فرائض مند بھی کے منافی ہوں گے۔۱۲ تاریخ کی صبح کو سکولوں کے لڑکوں اور بازار کے لونڈوں کے دستے ادھر ادھر بھیج دیئے گئے اور دکانداروں کو دکانیں بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔بہت سے لوگ اپنی دکانیں کھلی رکھنا چاہتے تھے لیکن ان کو دھمکایا گیا اور وہ غریب ان لڑکوں اور دوسرے لوگوں کے سامنے جو بازاروں میں پی کر کاٹ رہے تھے عاجز آکر دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے چند سکول بھی بند کر دیئے گئے۔دو ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں تشدد اور خونریزی تک نوبت پہنچ گئی۔ایک واقعہ دیال سنگھ کالی کے باہر اور دوسرا تعلیم الاسلام کا لیے احمدیوں کی درسگاہ میں رونما ہوا۔جب ان کالجوں کے طلبہ نے ہڑتال کرنے سے انکار کیا تو طرفین کی طرف سے خشت باری ہوئی اور لوگ زخمی ہوئے۔سر ظفر اللہ خان کا ایک جنازہ بھی نکالا گیا اور متعدد چھوٹے چھوٹے جلوس بازاروں میں چکر لگانے لگے پابند قانون شہری ان مظاہروں کو پسند نہ کرتے تھے لیکن محض اس خوف سے ناپسندیدگی کا اظہار نہ کرتے تھے کہ مبادا ان کو بھی احمد می قرار دے دیا جائے۔ہے۔کہا گیا ہے کہ کراچی میں ڈائریکٹ ایکشن، شروع کرنے کے لئے آخری تاریخ ۲۳ مقرر کی گئی تھی۔احراری لیڈروں نے عوام کے لیظ و غضب کو اس حد تک مشتعل کر دیا ہے کہ اب اُن کے لئے پیچھے ہٹنا بے حد مشکل ہے۔وہ بڑی تیز و تند اور منگو یا نہ تقریریں کرتے رہے ہیں اور ان میں محض اپنی عزت سلامت رکھنے کی خاطر بھی ۲۳ تاریخ کو کوئی نہ کوئی ڈرامائی اقدام کرنا پڑے گا۔۸- لا ہور میں قریب قریب ہر شب کو جیسے ہو رہے ہیں، جن میں احمدیوں کے خلاف عوام کے احساسات کو مشتعل کرنے کے لئے تقریریں کی جاتی ہیں۔۱۶ تاریخ کو بعض دکانداروں کے منہ کالے کہ دیئے گئے کیونکہ انہوں نے دکانیں بند کرنے سے انکار کیا تھا۔دیال سنگھ کالج کے قریب مظاہرین نے ایک موٹر کار کو بھی کسی قدر نقصان پہنچایا۔۱۸ تاریخ کو نارتھ ویسٹرن ریلوے کی ورکشاپ میں ایک