تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 469
۴۵۹ حکومت کی شدید مذمت کی۔اور اس کے حملوں کا سب سے بڑا ہدف وزیر اعظم پاکستان تھے۔اس جلسہ میں مقررین نے پنجاب اور صوبہ سرحد کے چیف منسٹوں کو بھی برا بھلا کہا وزیر اعظم پاکستان کو کھلم کھلا مرزائی کہا جارہا ہے۔ایک اور جلسہ میں عطاء اللہ شاہ بخاری نے ان کو بدھو الذین احمقون کہا۔ان تقریروں کی خصوصیت صرف تحقیر تھی۔۲۔جس زمانہ میں غذا کی کمی ہو، بیروزگاری عام ہو، کاروبار کی کساد بازاری ہوا اور کشمیر کے متعلق عام خیال یہ ہو کہ اس کو ہم کھو چکے ہیں۔جو شخص با نظمی اور ابتری پھیلانے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔میری رائے یہ ہے کہ احرار اور دیگر علماء جو ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں عوام کی توقیہ کو ان سنگین مسائل کی طرف سے آج جو ملک کو درپیش ہیں منحرف کرنے میں خاص طور پر کامینا ہوئے ہیں۔اس اینتری کی وجہ سے عوام کا وہ عزم کمزور ہو جائے گا جو ان مسائل کا مقابلہ اور ان کا مداوا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ہمارے پاس اِس امر کی شہادت موجود ہے کہ احرار نے آزاد پاکستان پارٹی کی شاخ بہاولپور سے رو پر لیا۔یہ لو پاکستان کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔حکومت کو کمر ہمت باندہ کہ اس خطرہ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔حکومت پڑھے لکھے طبقے کی ہمدردی کھو چکی ہے۔اور اب غیرملکی لوگ بھی یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حکومت غالباً اس بحران کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی جو علماء نے پیدا کہ رکھا ہے۔لندن ٹائمز کے نمائندہ نے حکومت پنجاب کے ایک افسر سے یہ کہا کہ مرکزی حکومت کمزور ہے اور موجودہ مسائل کے مؤثر مداوا کی قوت نہیں رکھتی۔رات لاہور کے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی صورت حالات بے حد تشویش انگیز ہے اور ایک عام ہنگامہ عنقریب برپا ہونے والا ہے حسین شہید سہروردی، ملک خضر حیات خان اور نواب ممدوٹ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سے ملاقات کر چکے ہیں ہم نے مرکزی حکومت کو صورت حالات کی نزاکت سے مطلع کر دیا ہے۔امید ہے کہ وہ کوئی مضبوط طرز عمل اختیار کرے گی یہ اخبار نگهبان، کراچی (۲۵) فروری ۱۹۵۳ء) نے اخبار نگهبان کراچی کا بروقت انتباه سول نافرمانی کی دھمکی دینے والوں کو انتباہ کیا کہ :۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت صد تا ما مطبوعہ انصاف پر لیں۔لاہور