تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 466 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 466

ملاقات کر چکے ہیں اُن کے مطالبات سے ہمدردی نہیں کی۔لہذا انہوں نے صاحب موصوف کو الٹی میٹم دے دیا ہے کہ و ۲۳۰ فروری کو راست اقدام کریں گے۔وہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کراچی کے عوام انکے حامی ہیں اور اگر تحریک شروع کی گئی تو وہ جوق در جوق اُس کی حمایت کریں گے۔وہ مرکزی حکومت کے ارکان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے وعدے کئے لیکن ان کا ایفاء نہ کیا۔کراچی سے مندوبین کی واپسی کے بعد اس شورش میں ایک نئے پہلو کا اضافہ ہو گیا ہے یعنی عزت مآب وزیر اعظم پاکستان کے خلاف بل گوئی اور دشنام طرازی کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔شورش کے ابتدائی مرحلوں میں سر ظفر اللہ خاں کی موقوفی کا مطالبہ کیا جاتا تھا لیکن اب بعض مقررین یہ کہہ رہے ہیں کہ عربات مآب وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئیے۔ہے۔کہا جاتا ہے کہ ڈائریکٹ الیکشن کراچی میں شروع کیا جائے گا اور اُسی کے لئے رھنا کا پنجاب اور دوسرے صوبوں سے بھیجے جائیں گے۔ڈائریکٹ الیکشن احمدیوں کی دکانوں پر سکیٹنگ کی شکل اختیار کرے گا۔یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر وفعہ ۱۴۴ کے تحت احکام جاری کئے گئے تو ان کی خلاف ورزی کی جائے گی۔مطالبات حسب ذیل ہیں :۔(1) سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ کے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔(ii) احمدیوں کو ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔(iii) جو احمدی حکومت کے کلیدی عہدوں پر قابض ہیں اُن کو اُن عہدوں سے موقوف کیا جائے۔اس شورش کو جماعت اسلامی، اہل سنت و الجماعت، اہل حدیث اور شیعوں کی حمایت حاصل ہے۔پیر صاحب گولڑہ شریف (ضلع راولپنڈی) پیر صاحب سیال شریف (ضلع سرگودہا) پیر صاحب علی پور سیداں (ضلع سیالکوٹ) پیر شوکت حسین (سجادہ نشین پیر صاحب ملتان) اور بعض دیگر حضرات نے اس شورش کو برکت کی دعا دی ہے۔سرمایہ جمع کیا جا رہا ہے اور ایک روپے کے نوٹ چھاپ کر فروخت کئے جارہے ہیں۔بازاری اور غنڈہ عناصر نے بھی شورش پسندوں کی تائید و حمایت اختیار کر لی ہے۔آزاد پاکستان پارٹی کی شاخ بہا ولپور نے شورش پسندوں کو ایک ہزار چلے کی رقم عطا کی ہے۔-۶- جب یہ معلوم ہوا کہ عزت مآب وزیر اعظم ۱۰ تاریخ کو لاہور آرہے ہیں تو ایک جلسہ عام متقد