تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 465
۴۵۵ یہ مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا جائے اور کھانے پینے کی چیزوں کی دکانوں پر ان کے لئے علیحدہ برتن رکھے جائیں۔کچھ مدت تک ضلع گوجرانوالہ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ احمدیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔صرف پولیس کی مداخلت ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ ایسے واقعات نہ ہونے پائے۔احمدیوں نے جو اس نئی حرکت سے بہت زیادہ مضطرب ہو گئے تھے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دی کہ انہیں اپنا علیحدہ قبرستان بنانے کے لئے زمین الاٹ کی بجائے یکم فروری ۱۹۵۳ء کو سرگودھا میں مسلمانوں کے قبرستان میں ایک احمدی حقیقت کی تدفین کے خلاف مزاحمت کی گئی۔پولیس موقعہ پر پہنچ گئی جس سے صورت حالات پر قابو پا لیا گیا۔احمدیوں کے مجلسی مقاطعہ کی تلقین کھلم کھلا کی جارہی ہے نیٹ ٹگری میں ایک مقرر نے کہا کہ احمدیوں کی دکانوں پر پکٹنگ کیا جائے اور اُن کو عوامی کنووں سے پانی بھرنے کی اجازت نہ دی جائے شورش کا لہجہ قطعی طور پر نہایت پست اور مقبول صورت اختیار کر گیا ہے۔سو بے بھر میں رضا کاروں کی بھرتی کے لئے ایک مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور صاحبزادہ فیض احسن پہلا ڈکٹیٹر مقر رکیا گیا ہے۔رضا کاروں سے ایک حلف نامے پر دستخط کرائے جاتے ہیں کہ اگر رسول پاک کی عزت کے لئے جان دینے کی ضرورت پڑے گی تو وہ اُس میں دریغ نہ کریں گے۔کہا جاتا ہے کہ بعض رضا کاروں نے حلف نامہ اپنے خون سے لکھ کر پیش کیا ہے۔لاہور میں کوئی ڈیڑھ سو اشخاص بھرتی ہوئے ہیں۔صوبے کے دوسرے حصوں میں اب تک جو بھنا کا بھرتی ہوئے ہیں اُن کی تعداد کا اندازہ پانچ سو کے قریب کیا جاتا ہے۔صوبے بھر میں پچاس ہزار رضا کاروں کو بھرتی کرنا مقصود ہے۔ماسٹر تاج الدین انصاری (صدر آل پاکستان مجلس احرار سید مظفر علی شمسی (سیکرٹری ادارہ تحفظ حقوق شیعہ) اور صاجزادہ فیض اس کا رویہ خصوصاً جا رھا نہ ہو رہا ہے۔۳- آل سلم پارٹیز کنونشن جو گذشتہ ماہ جولائی میں احراریوں نے مرتب کی تھی اُس کا ایک اجلاس 14 جنوری سے ۱۸ جنوری تک کراچی میں منعقد ہوا جس میں حسب معمول مطالبات کی قراردادیں منظور کی گئیں۔اس کنونشن کے مندوب جب سے پنجاب واپس آئے ہیں اُن کا طرز عمل پہلے کی نسبت زیادہ سرکشانہ ہو گیا ہے۔ظاہر ہے کہ کراچی میں علماء کی کانفرنس نے احمدیوں کو ایک اقلیت قرار دینے کی جو حمایت کی اُس سے اُن لوگوں کو بہت تقویت پہنچی ہے۔اُن کا بیان ہے کہ وزیر اعظم نے جن سے وہ