تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 444
سلام سلام سے روک نہیں سکتی۔میں کہتا ہوں کہ حکومت جس قدر محبت کے ساتھ ہم پہ ہاتھ ڈالے گی اسی مجبلت کے ساتھ ہماری کامیابی ہمارے قدم چومے گی یا لے ۲۶ - جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ (منعقد ۲۲۰۔دسمبر ۱۹۵۳م) کو خطاب کرتے ہوئے کہا :- مرزا محمود کو آگاہ رہنا چاہیئے کہ اس کی بڑ کا ٹٹ نہ گزر گیا ہے۔۔۔لو آب سر بخاری کا ہے اور میں اپنے مولا کریم کے فضل و کرم سے کہہ رہا ہوں کہ تم ہوشیار ہو جاؤ آخری فتح میری ہوگی یا ہے تقادیانی مسلم فسادات کی مکی عبارت است اقدام کے نامورلیڈروں نے دستوری سفارت کے متعلق جنوری ۱۹۵۳ ء میں ایک مفصل بیان دیا جس میں انہوں نے حکومت پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے بیلیز بر دست انتباہ کیا :- ان کو پچھلے دور کے بیرونی حکمرانوں کی طرح نہ ہونا چاہیئے جنہوں نے مہند وسلم مسئلہ کی نزاکت کو اس وقت تک محسوس کرنے ہی نہ دیا جب تک متحدہ ہندوستان کا گوشہ گوشہ دونوں قوموں کے فسادات سے خون آلود نہ ہو گیا جو دستور ساز حضرات خود اس ملک کے رہنے والے ہیں ان کی غلطی بڑی افسوسناک ہوگی کہ وہ جب تک پاکستانی میں قادیانی مسلم تصادم کو آگ کی طرح بھڑکتے ہوئے نہ دیکھ لیں اس وقت تک انہیں اس بات کا یقین نہ آئے کہ یہاں ایک قادیانی مسلم مسئلہ بھی موجود ہے اسے ہائی بداعت اسلامی سید ابوالاعلی صاحب مودودی نے موچی دروازہ کے ایک جلسہ عام میں علماء کے اس بیان کی مکمل حمایت میں تقریر کی اور کہا :- قوم کے متفقہ مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بہت ممکن ہے یہ مسئلہ ہندو مسلم فسادات سے بھی نازک صورت اختیار کر جائے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمان اور مرزائی" سوال پیدا ہونے اور ه زمیندار ۳ فروری ۶۱۹۵۳ م کالم ۲ : سه آزاد ۱۶ جنوری ۱۹۵۳ء صٹہ کالم لا کے اخبار کو ٹر ۲۵ جنوری ۱۹۵۳ء منا کالم - جناب مولوی محمد علی صاحب جالندھری نے انہی ونوں کیا کیا ہماری حکومت بھی مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے اور مسلمانوں کے دوسرے مطالبات اس وقت تعلیم کرے گی جب خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی یا (آزاد ۱۸ر فروری ۱۹۵۳ء صب کا لم ۳۴ ) :