تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 445 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 445

۴۳۵ اس سے رونما ہونے والے حالات سے پہلے ہی قوم کے مطالبات تسلیم کرنے والے اخبار زمیندار دیکم فروری ۱۹۵۳ء حت کالم عام میں یہیں بیان درج ذیل الفاظ میں شائع ہوا۔اگر قوم کے متفقہ مطالبہ کو نظر انداز کیا گیا اور اس فرقہ کو علیحدہ اقلیت قرار دینے کا اعلان نہ کیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ اس ملک میں ہندو مسلم فسادات کی طرح قادیانی اور سلم فسادات کا سلسلہ شروع ہو جائے۔یہ وہ نازک صورت حال ہو گی جیسے شاید ہماری حکومت برداشت نہ کر سکے گی کہتے جماعت اسلامی کے مرغ کردار پر ایک نظر اس سرما پر یہ بتانا ضروری ہے کہ احمدیوں کے خلاف ایکی کمیشن کی بنیاد تو احراری علماء نے رکھی تھی جیسا کہ مولانا سید ابوالاعلی مودودی صاحب بھی تسلیم کرتے تھے۔اس ایجی ٹیشن کی ابتداء کرنے والے بلاشبہ احرار تھے اسے مگر جب فسادات کے لئے ماحول سازگار ہو گیا تو جماعت اسلامی بھی پیش پیش نظر آنے لگی حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اُس نے شروع ۱۹۵۲ء میں دستور ساز اسمبلی پاکستان سے دستور کو خالص اسلامی بنانے کے لئے جن آٹھ مطالبات کی قطعی صراحت کا مطالبہ کیا تھا اور حسین کے لئے اس نے ایک وسی مہم چلا کر بہت سے مسلمانوں سے دستخط کرائے تھے اُگی میں جماعت احمدیہ کو اقلیت قرار دینے کا ذکر یک نہیں تھا۔یہ مطالبہ دستخط کرانے کے بعد پیر اسرار طریق سے از خود شامل کیا گیا جس پر راولپنڈی کے معززین وزعماء نے کھلا احتجاج کیا۔اس غیر اسلامی اقدام کے نتیجہ میں جماعت اسلامی کی عملی پالیسی کے متعد د ایسے پہلو نمایاں ہو کر سامنے آگئے جو حد درجہ افسوسناک اور نا قابل فہم تھے مثلاً :- اوّل۔جماعت اسلامی نے سات برس قبل تحریک پاکستان کی مخالفت کا شرعی جوازہ ہی یہ پیشین کیا تھا کہ اگر پر ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثر تین مطالبہ پاکستان پر شفق و متحد ہے مگر حدیث نبودگی اه آزا د ا س ر جنوری ۱۹۵۳ء ص کالم : که زمیندار یکم فروری ۱۹۵۳ء حت کالم عمل ه روزنامه آفاق (لاہور) ۱۳ اکتوبر ۱۹۵۳ و صاب کے ملاحظہ ہو اشتہار ہم مطالبہ کرتے ہیں" مطبوعہ مرکنٹائل پر نہیں لاہور شائع کردہ جماعت اسلامی پاکستان دستوری تجاویز سرورق مگ از مسیر ابوالاعلی صاحب مودودی طبع بتولی ۱۲ اگست ۱۹۵۲ ۶- ناشهر مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی انچاره وه