تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 390 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 390

٣٨١ بیتاب ہے۔لیکن چاہتا ہوں کہ تیری محبت کو حاصل کروں مگر اسے میرے رب !! میری کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک تیرے فضل میرے شامل حال نہ ہوں پس تو اپنی محبت سے مجھے حصہ عطا فرما اور مجھے اُن لوگوں میں شامل فرما جو تیر سے حسین کے پاک گروہ میں شامل ہیں ؛ لیے ۱۳۳۱۱ اہش / ۱۹۵۲ء کے اس کامیاب جلسہ پر جن اخباروں نے تبصرہ شائع کیا پریس میں ذکر ان میں ہمار اکشمیر مظفر آباد تنظیم" (پشاور) اور اقدام" (لاہور) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ہماراکشمیر ا۔اخبارہ ہمارا کشمیر نے ار فروری ۱۹۵۳ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر اخبار ہمارا کشمیر نہایت جلی عنوان کے ساتھ حسب ذیل خبردی - :- حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے مسلمانان عالم کو متوجہ کیا کرفلسطین میں سہود کا اقتدار ہمارے مقدس ترین مقامات کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔کشمیر کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے بغیر پاکستان بالکل و محصور ہے رہوہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر پچاس ہزار کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے جناب حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے مسلمانان عالم کو متوقہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامی ممالک کو فلسطین کے متعلق کوئی ٹھوس اور علی قدم اٹھانا چاہیئے۔آپ نے علیکم اسلام کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا مختلف ممالک میں مسلمانوں کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں مثلاً ایران مصر، انڈونیشیاء عراق اور اردن کے سیاسی حالات میں نئی نئی تبدیلیاں اور الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں۔ٹیونس اور مراکز کے مسلمان آزادی کی جد و جہد کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی ممالک کے مسلمانوں کی مدد ہم دعا اور احتجاج سے تو کرتے ہی رہتے ہیں مگر ایک مسئلہ ایسا ہے جس کے متعلق ہماری حکومت کو بھی ضرور کوئی عملی کا رروائی کرنی چاہئیے اور وہ ہے فلسطین میں یہودیوں کے اقتدار کا مسئلہ پیو مسلمانوں کے شدید دشمن ہیں اور انہوں نے ایک ایسے ملک میں حکومت قائم کر لی ہے جو ہمارے مقدس ترین ل تعلق بالله" ص ۱۳۲۳ :