تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 389 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 389

۳۸۰ کی اہمیت کے متعلق یکں نے پہلے بھی تو تقیہ دلائی تھی اور اب پھر دلاتا ہوں مگر افسوس کہ اب تک مسلمانوں نے اس خطرے کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔مار کشمیر اسی طرح کشمیر کے علاقہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہی نہیں سمجھ سکتا کہ موجودہ طریق سے یہ مسئلہ کس طرح محال ہوگا کشمیر کے متعلق پاکستان اور ہندوستان کی پوزیشن بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص کا روپیہ گر جائے اور دوسرا اُسے اُٹھا کر اپنے قبضہ میں کرلے جس کا روپیہ گرا ہے اگر وہ محضن صبر سے کام لیتا چلا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اسے کبھی روپیہ ملنے کی اتید نہ کرنی چاہیئے۔ہر حال دعا کرو کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کا بھی کوئی صحیح راستہ حکومت کو نظر آئے اور پھر اس راستہ پر اسے عمل کرنے کی بھی توفیق ملے کیونکہ کشمیر کے بغیر پاکستان ہر گز محفوظ نہیں ہے یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کوئی صحیح طریق اختیار کرے مگر وہ جو بھی راس نہ تجویز کرے تمہیں اس پھیل کرنے کے لئے ابھی سے تیار رہنا چاہیے لیے کےموضوع پایان ارانی حضرت امیر المؤمنين الصلح الموعود نے اپنی تعلق باللہ کے موضوع پر ایمان افروز تری اور تقریر ی ولاتان باشد کے موضوع پر میں می تصوف اسلامی کے بہت سے باریک اور ضروری مسائل پر آسان اور دلنشین پیرایہ میں روشنی ڈالی اور مندرجہ ذیل دینی ایسے ذرائع کی نشان دہی فرمائی جن سے انسان محبوبان الہی کے پاک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے : (۱) صفات الہیہ کا ورد (۲) صفات اللبیہ پر تقریر (۳) خدمت خلق (۴) گناہ پر ندامت (۵) ضرورت دُعا کا احساس (۶) تدبیر کامل اور تو کل کامل (۷) انصاف پروری (۸) تقوے (9) صفات الہیہ کی عکاسی (۱۰) محبت الہی کے لئے دعا۔اس پر معارف تقریر کے اختتام پر حضور نے فرمایا :- سارے کاموں کا آخری انحصار دعا پر ہے پس انسان کو بچاہیئے کہ وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں مجھکے اور اس۔س سے کہے کہ الہی تیرا وجود مخفی ہے، میری مقتل سخت ناقص اور نا تمام ہے مگر میرے دل کے مخفی گوشوں میں تیرے وصال کی ایک نہ مٹنے والی خواہش پائی جاتی ہے۔میرا دل تجھ سے ملنے کے لئے لے روزنامہ الفضل لاہور موریضہ ۱۲ صلح ۳۳۲ اہش منو