تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 385
۳۷۶ اس کے کاغذات ابھی ا مواد بھر ہی پھر رہے ہیں گو احراری تو کہہ رہے ہیں کہ مجھے دس ہزار مرتجھے ملے ہیں مگر مجھے دس ہزار مرتھے چھوڑون مرتبان بھی نہیں ملے۔یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ حکومت نے بغیر تحقیقات کے یہ الزام ہماری جماعت پر لگا دیا ہے اور انصاف کا طریق یہی ہے کہ حکومت اس کی پوری پوری تحقیقات کرنے ، اگر کسی احمدی افسر کے متعلق یہ الزام درست ثابت ہو تو پھر اس کی تردید کرے اور اعلان کرے کہ یہ الزام غلط ہے۔حضور نے فرمایا کو الزام تو ہم پر لگایا جاتا ہے کہ محمدی حقیقت پر پردہ ڈالنے کیلئے احمدیوں پر الزام احمدی افسراپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے احمدیوں کی مدد کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے حقیقت یہ ہے کہ اس بارہ ہیں احمدیوں سے تعصب برتا جاتا ہے اور ان کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور اس طرح ان کی حق تلفی کی جاتی ہے اور اس حق تلفی پر پردہ ڈالنے کے لئے الٹا احمدیوں پر الزام لگا یا جا رہا ہے ہم حکومت کے سامنے کئی ایک ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جبکہ مختلف محکموں میں احمدیوں کو ملازمت یا ترقی سے صرف اس لئے محروم کیا گیا کہ وہ احمدی ہیں حالانکہ ان کی تعلیم، تجربہ ، قابلیت اور گذشتہ ریکارڈ ان کے حق میں تھے لیکن ہم نے ان حق تلفیوں پر کبھی شور نہیں مچایا کیونکہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس قسم کی حق تلفی اور تعصب کا بہترین علاج یہ ہے کہ ہم اپنی تعلیم، قابلیت محنت، دیانتداری اور اچھے اخلاق کے معیار کو اور بلند کر کے ان کا مقابلہ کر یں نہ کہ شور مچائیں۔اگر ہمارے نوجوان ہماری تعلیم پر عمل کریں گے تو اس قسم کی حق تلفی زیادہ عرصہ نہیں ہو سکتی اور نوکریاں اور ملازمتیں آپ اُنکے پاس آئیں گی۔اے حضور نے فرمایا مجھے بڑی خوشی ہے کہ اس پاکستانی پولیس کی فرض شناسی اور دیانتداری نفتے کے دوران ہمارے ملک کے وقت دار ذمہ پولیس نے جو ملک کی رائے عامہ کی جان ہوتا ہے بڑی دلیری سے اپنے فرض کو ادا کیا ہے سب سے پہلے ہ ڈان نے بڑی جرات سے اس فتنہ کے خلاف آواز بلند کی پھر بنگال کے پریس نے اس کی تائید کی۔پنجاب میں سول اینڈ ملٹری گزٹ اور بعض دیگر اخبارات نے بھی اپنا فرض ادا کیا۔اُردو پریس شه روزنامه الفصل یکم صلح ۱۳۳۲ مش ص ۱۳۴۲ به