تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 384
۳۷۵ افسر اپنے عہدے سے فائدہ اُٹھا کر احمدیوں کو ناجائز الاٹمنٹ کرتے ہیں۔جو شخص اپنے عہدے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نا جائز طور پر ایسے کام کرتا ہے اور اس طرح حقداروں کی حق تلفی کرتا ہے میرے نند یک وہ نہ صرف حکومت کا مجرم ہے بلکہ قرآن کا بھی مجرم ہے کیونکہ وہ قرآن کے احکام کی خلاف رہی کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک فعل کا جرم ہونا کسی کو یہ حق دے دیتا ہے کہ وہ بغیر تحقیقات کے کسی پہرہ اس شرم کے ارتکاب کا الزام لگا دے؟ کیا حکومت کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ یہ الزام لگانے سے پیشتر اس شکایت کی تحقیقات کرتی اور یوں بغیر تحقیقات کے ایک قوم پر الزام لگا کر اسکی ہتک کا مرتکب نہ ہوتی ؟ کیا حکومت کے لئے یہ کوئی مشکل امر تھا کہ وہ ان الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کراتی اور ان کے ثبوت بہم پہنچاتی ؟ پھر اگر یہ الزام کسی احمدی افسر کے متعلق درست ثابت ہوتا تو بے شک اسے مزا دیتی کیونکہ وہ واقعی مجرم ہے، نہ صرف حکومت کا بینکہ اسلام کا بھی لیکن اگر یہ الزام ! درست ثابت نہ ہو تو یقیناً یہ صریح بے انصافی ہے کہ ہم پر غیر تحقیقات کے صرف اس لئے الزام لگا دیا جائے کہ ہم غریب ہیں اور کمزور ہیں۔اسلامی حکومت کا فرض اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ لک کے ہرفرد کی عوت کی حفاظت کرے۔اسلامی حکومت کا تو یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ملک کے ایک اوئی سے اونی انسان کی عزت کی بھی حفاظت کرے اور اس پر کوئی جھوٹا الزام نہ آنے دے۔کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے عرصہ میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے دفتر میں کسی چوہڑے نے بھی بیعت کی ہے اور احمدیت قبول کی ہے ؟ اگر یہ نہیں ثابت کیا جا سکتا تو یقینا ایسا الترام لگا نا چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پر ظلم نہیں ہے بلکہ اس قوم پر ظلم ہے جس کے وہ ایک فرد ہیں۔پر پھر الزام لگانے سے پہلے یہ بھی تو دیکھ لیا جاتا کہ کون کون سے احمدی افسر ایسے ہیں جو بھرتی کرنے کے قابل ہیں؟ کوئی فینا نشل کمشنر احمدی نہیں ہے، کوئی ڈپٹی کمشٹر احمدی نہیں ہے، مہاجرین کو زمیں تقسیم کرنے والا کوئی اصلی افسر احمدی نہیں ہے، پھر یہ نا جائز الاٹمنٹ کرنے والا اور احمدیوں کو بھرتی کرنے والا ایسا احمدی افسر کون ہے ؟؟ پھر یہ بھی تو سوچنے والی بات ہے کہ اگر احمدی افسر نا جائز الائنشیں کرتے تو سب سے پہلے وہ مجھے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے لیکن مجھے تو انہوں نے کچھ نہ لے کر دیا بلکہ میری جو زمین قادیان میں تھی