تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 383
۳۷۴ کر دیں۔اس موقعہ پر چور نے اخبار آزاد اور زمیندار میں سے متعدد ایسے حوالے پڑھ کر سنائے جن میں حکومت کے ذمہ دار راہنماؤں کے نام لے لے کر کھلے طور پر یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر کو میں نے ہمارے مطالبے نہ مانے تو ہم حکومت سے ٹکرائیں گے ، بدامنی پیدا کریں گے اور جنرل نجیب کی طرح محکومیت کا تختہ الٹا دیں گے۔اس طرح ان حوالوں میں عوام کو تلقین کی گئی تھی کہ وہ کسی لیڈر کا انتظار نہ کریں بلکہ خود آگے آکر ملک میں بد امنی پیدا کر ہیں۔حکومت کے رویہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- حکومت پاکستان کا مخلصانہ رویہ ہمارے خلاف این فسادات کے ایام میں حکومت نے اکثر مقامات پر دیانتداری سے کام کرنے اور حالات کو بندھا رنے کی کوشش کی۔اس نے جو حالات کا کئے وہ بھی درست تھے مگر عملاً لبعض مقامات پر حکومت حالات پر قابو رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔صو با ئی مسلم لیگ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- صوبائی مسلم لیگ مجھے خوشی ہے کہ سلم لیگ کا رویہ بہت اچھا رہا۔اس نے اپنے ہر اجلاس مسلم میان d میں دلیری سے اصل حالات کا جائزہ لیا۔پاکستان کے دوسرے صوبوں نے تو پنجاب سے بھی بہتر نمونہ دکھایا بالخصوص سرحد کے وزیراشکی نے تو بڑی دلیری سے اس فتنے کو بڑھنے سے روکا اور اسے دبایا۔اسی طرح سندھ میں بھی شرارتیں محدود رہی ہیں اور اب تو پنجاب میں بھی حالات بہتر ہورہے ہیں گو پوری طرح فتنہ دبا نہیں ہے۔حضور نے فرمایا: بعض افسروں کی غلطیاں جہاں مجھے خوشی ہے کہ اکثر مقامات پر حکومت نے دیانتداری سے کام کی نے کی کوشش کی ہے وہاں مجھے افسوس ہے کہ حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق غلطیاں بھی کی ہیں مثلاً حکومت نے ایک اعلان میں یہ الزام لگایا ہے گو نام نہیں لیا مگر اشارہ ہماری طرف ہی تھا کہ احمدی افسر اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کہ احمد نیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور اپنے ہم مذہبوں کو ملازمت میں بھرتی کرتے ہیں۔اسی طرح ایک ذمہ دار افسر نے کہا کہ احمدی له خان عبد القیوم خان (موجودہ وزیر داخلہ پاکستان ) + بلے ہمارا گست ۱۹۵۲۰ء کا سرکاری اعلامیہ جیس کا ذکر فصل دوم میں ہے ؟