تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 360
۳۵۶ مطلب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان ہیں ان کی جان محفوظ ہے اور کاروبار و ملازمت کے تمام دروازے ان پر کھیلتے ہیں۔یہی نہیں اِس سے آگے بڑھ کر یہ کہ یہ اپنے مذہب کی تبلیغ بھی کر سکتے ہیں۔اگر آزادی کی ان سه گونہ نعمتوں سے یہ محروم ہیں تو پھر یہ اقلیت ہرگز نہیں ہو سکتے۔حریت و معاند گر وہ ہو سکتے ہیں جس کو ہم نے بدرجہ بوری پناہ دے رکھی ہے۔مقاطعہ کے بظاہر دو مقصد ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اس طرح کے بغیر شائستہ اور جارحانہ طرز عمل سے انہیں مجبور کیا جائے کہ یہ اپنا اقلیت ہونا ان ہیں، دوسرے یہ کہ اپنے عقائد سے تو یہ کر لیں۔غور کیجئے گا تو دونوں صورتیں حمل اور غیر دانشمندانہ نظر آئیں گے۔ہم جب مرزائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ ہم سے الگ ایک قومیت ہیں تو یہ نہایت ہی سنجیدہ اور آئینی مطالبہ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اور نبوت سے چا ہے وہ جھوٹی ہو یا پیتی مستقل بالذات گروہ معرض وجود میں آتا ہے اس لئے مرزائیوں کو چاہیے کہ اپنی اس حیثیت کو تسلیم کر لیں اور حکومت انہیں اقلیت کے تمام حقوق سے بہرہ مند کرے۔ہم جانتے ہیں کہ ان کے اقلیت بن جانے سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ الٹا کچھ فوائد ہی حاصل ہوتے ہیں۔تاہم اس مطالبہ پر ہمارا اصرار اس بناء پر ہے کہ مرزائیت کا مزاج اور حکومت کا دینی موقف اِس کا متقاضی ہے۔یہ مطالبہ چونکہ بالکل دینی اور آئینی ہے اس لئے اس کو منوانے کے لئے ہم کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کریں گے جو مطالبہ کی معقولیت اور سنجیدگی کے منافی ہو۔علاوہ ازیں اگر مرزائی پاکستان میں موجودہ حالات میں اپنے کو محفوظ نہ سمجھیں تو اقلیت کی صورت میں ان کو ان کی حفاظت کا یقین دلانا سخت احمقانہ ہے۔دوسرا سداب اس روش کو حق بجانب ٹھرانے کا یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کی حرکات سے انہیں تو یہ پر مجبور کیا جا سکے گا؟ لیکن کیا کوئی سمجھدار آدمی یہ کہ سکتا ہے کہ بائیکاٹ سے عقیدوں میں تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے؟ ہم مجلس عمل کے ذمہ دار ارکان سے درخواست کریں گے کہ وہ اس سہودگی کو جس قدر جلد ہوگئے روکیں اور اپنے اعلانات اور طرز عمل سے ثابت کریں کہ ان کی جنگ کا رُخ اُن کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ جس فرض کے لیے کوشاں ہیں وہ سراسر آئینی اور سنجیدہ ہے یا ملے ه هفت روزه الاعتصام (گوجرانوالہ ) ۲۶ دسمبر ۳۶۶۱۹۵۷۔نوٹ :- ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۶ء سے یہ اختبار لاہور سے نکلتا ہے :