تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 359
۳۵۵ کر ہے، اس کا بھی کوئی ایسا فیصلہ ہماری نظر سے نہیں گزرا جس میں مقاطعہ کی تلقین کی گئی ہو۔ذقتہ وار اور صاحب بصیرت علماء سے بھی کوئی ایسا نہیں جس نے مرزائیوں کے مقاطعہ کا فتوی دیا ہو۔لندا و دو سوال یہاں قدرتاً اُبھرتے ہیں اول یہ کہ جب یہ تحریک سوا گوجرانوالہ کے حلقہ کے اور کہیں نہیں پائی جاتی اور ملک کی کسی دینی و سیاسی جماعت نے اس انداز کا فیصلہ نہیں کیا تو اس تحریک کو چلانے والوں کو کیا حق ہے کہ اسے اسلامیان پاکستان کا متفقہ فیصلہ قرار دیں ؟ دوسرے مجلس عمل نے اس لغوثیت کے خلاف کیوں کوئی نوٹس نہ لیا ؟ حالانکہ تحریک کی دیکھ بھال اور نگرانی اس کے فرائض میں داخل ہے۔کیا انہیں معلوم نہیں کہ اس طرح کی تحریک آئندہ چل کر کس قدر خان اک ثابت ہو سکتی ہے ؟ اور اس سے مجلس عمل کے راستے میں کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں؟ الاعتصام وہ پہلا پرچہ ہے جس نے اس موضوع پر پوری سنجیدگی سے قلم اُٹھایا کہ مرتبا ئیوں کو آئنده دستور میں اقلیت سمجھا جائے، نیز مرزائیوں کو از راہ اخلاص پر مشورہ دیا کہ وہ اس معقول مطالبہ کو تسلیم کر لیں لیکن اس کے ہر گز یہ معنی نہیں ہیں کہ مرزائیت کی مخالفت ہیں جو غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ قدیم بھی اٹھایا جائے ہم اس کی تائید کریں گے۔یاد رہے کہ قرآن نے ہمیں ہر اعمال میں متوازن رہنے کی تلقین کی ہے اور ہم سے بحیثیت مسلمان کے مطالبہ کیا ہے کہ دشمنی میں بھی حدود عدل و اعتدال سے تجاوز نہ ہوں۔اس اصول کے پیش نظر ہمارے لئے یہ ناممکن ہے کہ اس نوع کی زیادتی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور چپ رہیں۔ہم اس طرز عمل کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں اور مجلس عمل سے درخواست کرتے ہیں کہ اس روش کے انسداد کے لئے وہ فوراً کوئی اقدام کرے ورنہ اگر یہ بدعت چل نکلی تو پورے پاکستان میں اس کے پھیل جانے کا اندیشہ ہے۔ان لوگوں کو جو مقاطعہ کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں خدارا اپنے مطالبہ کا تو احترام کرنا چاہیے اور عداوت و دشمنی میں اتنا غیر محتاط نہ ہونا چاہئیے کہ نفس مطالبہ ہی لا یعنی ہو کر رہ جائے۔۔ہمیں کوئی نہیں بات نہیں کرنی چاہیئے جس سے ہمارے اس مطالبے کو نقصان پہنچے کہ آئندہ آئین میں انہیں اقلیت ٹھرایا جائے۔ان لوگوں کو اس نکتہ پر غور کرنا چاہئیے کہ اگر پاکستان میں انہیں کاروبار کی آزادی بہتا نہیں ہے بلکہ ہم ان پر اکتساب رزق کے دونوں کو اڑ سختی سے بند کر دیتے ہیں تو یہ اقلیت کیونکر ہوئے؟ انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مرزائی ایک اقلیت ہیں تو اس کا واضح