تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 351
۳۴۷ بات ہے لیکن اگر کسی علاقہ میں قحط کی صورت ہے اور وہ یہ پوچھتا ہے کہ فلاں جگہ غذائی مال کی ہیں ہے۔چاول کا کیا بھاؤ ہے؟ وال کا کیا بھاؤ ہے ؟ گیہوں کا کیا بھاؤ ہے ؟ تو یہ باتیں جائز ہوں گی کیونکہ ان کا قوم اور ملک سے تعلق ہے اور ان باتوں کے لئے ہی مساجد بنی ہیں۔پس یہ فرق یا درکھو کہ مساجد اصل میں ذکر الہی کے لئے بنتی ہیں لیکن ذکر الہی کا قائم مقام وہ کام بھی ہیں جو قومی فائدہ کے ہوں خواہ وہ کھانے پینے کے متعلق ہوں یا قضاء کے متعلق ہوں ، جھگڑے فسادات " کے متعلق ہوں تعلیم کے متعلق ہوں یا کسی اور رنگ میں سلمان قوم کی ترقی اور تنزل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کاموں کے متعلق مساجد میں باتیں کی جاسکتی ہیں خواہ بظاہر یہ باتیں دنیوی معلوم ہوتی ہوں لیکن دراصل یہ قوم سے تعلق رکھتی ہیں اور دین ان سے ہی بنتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلم مساجد میں اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے ہمیں کیا کرتے تھے اور اس قسم کے دوسرے معاملات طے کیا کرتے تھے پس مساجد میں اس قسم کے کام جائز ہیں اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے این امور کو دین کا جزو بنایا ہے ہمارے دین میں ذکر الہی اس کا نام نہیں کہ انسان اللہ للہ کرتا ہے بلکہ اگر کوئی بیوہ کی خدمت کرتا ہے توہ بھی دین ہے، اگر کوئی نیم کی پرورش کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے، اگر کوئی شخص قوم کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے، اگر کوئی شخص جھگڑوں کو دور کرتا ہے، مقدمے ملکے کرتا ہے، صلح کراتا ہے تو یہ بھی دین ہے۔پس تمام وہ قومی کام جن سے قوم کو فائدہ پہنچے وہ قوم کے اخلاق اور اس کی دنیوی حالت کو اونچا کہیں ذکر الہی میں شامل ہیں اور ان کا مساجد میں کرنا جائز ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے کام مساجد میں ہی کیا کرتے تھے مثلا اگر کوئی مہمان آجاتا تو آپ صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتے فلاں جہاں آیا ہے تم میں سے کون اسے ساتھ لے جائے گا ؟ تو ایک صحابی اٹھنا اور عرض کرتا اسے یکی ساتھ لے جاتا ہوں، یا زیادہ مہمان آتے تو کوئی کتنا یکی ایک لے جاتا ہوں، یکی دھوئے جاتا ہوں، میں چار لے جاتا ہوں۔بظاہر یہ روٹی کا سوال تھا لیکن یہ دین تھا اس لئے کہ اس سے ایک دینی ضرورت پوری ہوتی تھی۔در حقیقت لوگوں نے دین کو محدود کر دیا ہے اور اس کے معنے اس قدر کمزور کر دیئے ہیں کہ کوئی چیز دین میں باقی نہیں رہی ورنہ دنیا کی سب چیزوں کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور ان سب چیزوں سے تعلق پیدا کرنا دین ہے۔خدا تعالی برا و ماست کسی کو نہیں مقا بلکہ خدا تعالیٰ قسم کی پرورش کرنے سے