تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 350 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 350

۳۴۶ ہیں بشرطیکہ وہ کام امن صلح اور نیکی کے ہوں مثلا اگر لوگ مسجد میں سیاسی جلسے کو ہیں اور قانون شکنی کی ہیں اور یہ کہ دیں کہ مسجد خد اتعالیٰ کا گھر ہے ہمیں حکومت مسجد میں قانون شکنی کی وجہ سے نہ پکڑے تو ان کا ایسا کہنا غلط ہو گا مساجد قانون شکنی اور نا جائز کاموں کے لئے نہیں بلکہ ساجد جائز قومی اجتماعوں کے لئے بنائی گئی ہیں۔گویا مساجد میں ہر وہ کام جو اجتماعی حیثیت رکھتا ہو کیا جا سکتا ہے مگر وہ کام جو قانون کے مطابق ہو مسلح کی غرض سے ہو، نیا میں اس کی غرض سے ہو۔خدا تعالیٰ نے مساجد کو حکومت کے خلاف فساد کی جگہ بنانا ناجائز قرار دیا ہے اور نہ صرف نا جائزہ قرار دیا ہے بلکہ اس قسم کی مساحید کو گرا دینے کا حکم دیا ہے۔پس ایک تو میں پھر اپنے اس مضمون کی طرف جماعت کو توقیہ دلاتا ہوں کہ دوست مساجد ہیں زیادہ سے زیادہ ذکر الہی کریں لیکن یکی ذکر الہی کو محدود نہیں کرتا مساجد میں قومی اور اجتماعی کام بھی کئے جا سکتے ہیں۔مثلاً مساجد ہی ہیں جن میں یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ کوئی باہر سے آیا ہے۔فرض کرو کوئی احمدی گوجرانوالہ، لائلپور یا ملتان سے یہاں آتا ہے۔وہاں چونکہ آج کل شورش ہو رہی ہے اس لئے قدرتاً ہر ایک احمدی کو یہ شوق ہو گا کہ اسے پتہ لگے کہ وہاں جماعت کا کیا حال ہے ؟ اور اس کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کیا کر رہی ہے ؟ اب اگر وہ مسجد میں اس احمدی سے یہ باتیں نہیں پوچھتا تو اس کا اجتماعی علم نامکمل رہ جاتا ہے۔اگر بچہ بظاہر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ اس سے دنیوی باتیں پوچھ رہا ہے لیکن حقیقت میں وہ دنیوی باتیں نہیں۔اگر وہ اس قسم کی باتیں پوچھتا ہے تو اجتماعی اور قومی حالت سے واقفیت حاصل کرتا ہے اور یہ ذکر الہی ہے۔بظاہر تو یہ ہوگا کہ اُس کے لڑکے کو کسی نے طمانچہ مارا ہے، یا فلاں لڑکے کو سکول سے نکالا گیا ہے، یا خلال استانی کو سکول سے ہٹا دیا گیا ہے یا کنوئیں سے پانی بھرنے سے احمدیوں کو روک دیا گیا ہے، لیکن یہ سب باتیں دینی ہوں گی اور ذکر ائلی کہلائیں گی۔پس ایسے اہم امور کے متعلق مساجد میں باتیں کرنا جائز ہے اور دین کا ایک حصہ ہے۔لیکن اگر کوئی اس قسم کی باتیں کرے کہ تم فلاں جگہ سودا لینے گئے تھے وہاں چاول کا کیا بھاؤ ہے؟ میں بھی چاول لینے وہاں جاؤں گا؟ یا آجکل قربانی کے بکرے کا کیا بھاؤ ہے ؟ تو یہ قومی بات نہیں اس لئے مسجد میں ایسی بات کرنا نا جائز ہے۔الا ماشاء اللہ کسی حالت میں اگر وہ یہ پوچھتا ہے کہ فلاں ہگہ سے تم نے چاول خرید نے نہیں کیا وہاں چاول سکتے ہیں تا یکی بھی چاول وہیں سے لاؤں تو یہ نا جائز