تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 352
۳۳۸ ملتا ہے، بیوہ کی خدمت کرنے سے ملتا ہے، کافر کو تبلیغ کرنے سے ملتا ہے، مومن کو مصیبت سے نجات دلانے سے ملتا ہے۔یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ملنے کے ذرائع ہیں یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نیچے اتر آتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ روحانی بینائی اور معرفت کے مطابق انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ آ گیا ہے لیکن اس کا ذریعہ ہیوہ کی خدمت کرنا ہوتا ہے، یتیم کی پرورش کرنا ہوتا ہے یا دوسرے قومی کام کرنا ہوتا ہے اور یہی دین ہے۔اگر تم مساجد میں ذاتی باتیں کرتے ہو مثلاً کہتے ہو تمہاری بیٹی کی شادی کے متعلق کیا بات ہے یا میری ترقی کا جھگڑا ہے انسر مانتے نہیں ہیں کوشش کو رہا ہوں تو یہ باتیں کرنا مسجد میں جائز نہیں سوائے امام کے کہ اس کا ذقہ قوم کی خدمت ہے اور نہ صرف ان باتوں کا کرنا مسجد میں جائز نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا بھی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کام میں برکت نہ وہے۔اب اگر کسی شخص کو شوق ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسم کی بد دعائے تو ہیں ایسے دیر شخص کو کچھ نہیں کہ سکتا لیکن اگر کسی کو یہ شوق ہے کہ وہ رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں نے توہ مسجد سے نکل کر ایسی باتیں کرے۔پس مساجد کے اندر ذکر الہی کرو لیکن ذکر الہی کے وہ تنگ معنے نہیں جو ملمان کلنٹے کرتے ہیں۔ذکر الہی ان تمام باتوں پرمشتمل ہے جو انسان کی ملی بسیاسی علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں لیکن تمام وہ باتیں جو لڑائی دنگا یا قانون شکنی کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں خواہ ان کا نام متی رکھ لو، سیاسی رکھ لو، قومی یا دینی رکھ لو مساجد میں ان کا کرنا نا جائز ہے یا ہے حضرت مهدي موعود عليه الصلاة والسلام کی اپنی جماعت کے لئے یہ واضح تعلیم ہے تحریک حج "جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہر گز داخل نہیں ہو گا ہو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ ایک شعلہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دینے نا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جائے۔میں تمہیں کچے پنچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے کہ اس ضمن میں فرایضیہ بچے کی نسبت خاص طور پر یہ حکم دیا کہ : مه روزنامه الفضل سور شما از تبوک ۳۳۱ ا م : سه کشتی نورخ ۲۳۴۲۲۳ وطبع اول)