تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 349
حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود نے اس مساجد کو ذکر الہی سے معمور رکھنے کی تحریک سال جہاں احترام مساجد کے فقہی مسئلہ پر روشنی ڈالی وہاں مسجدوں کو ذکر الہی سے معمور رکھنے کی بھی تحر یک فرمائی چنانچہ ۲۹ طور ۱۳۳۱ اہش کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- مساجد ذکر الہی کے لئے ہوتی ہیں اور انہیں اسی غرض کے لئے استعمال کرنا چاہیے، لیکن جب ہم اسلام کا اور خصوصا قرونِ اولیٰ کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے مساجد کو صرف ذکر الہی کی جگہ ہی نہیں بنایا بلکہ بعض دنیوی امور کے تصفیہ کا مقام بھی بنایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجالس میں ہم دیکھتے ہیں کہ لڑائیوں کے فیصلے بھی مساجد میں ہوتے تھے، فضائیں بھی وہیں ہوتی تھیں تعلیم بھی وہیں ہوتی تھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مساجد صرف اللہ اللہ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے کام بھی جو قومی ضرورت کے ہوتے ہیں مساجد ہیں کھئے جا سکتے ہیں۔ہاں مساعد ہیں مخالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہیں مثلاً رسول کریم صلے الہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ اس گمشدہ چیز کے متعلق مسجد میں اعلان نہ کرے۔اگر وہ اس گمشدہ چیز کے متعلق اعلان کرے تو خدا تعالیٰ اس میں برکت نہ ڈالے۔پس ایک طرف تو مساجد میں جنگی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں تعلیم دی جاتی ہے، فضائیں ہوتی نہیں لیکن دوسری طرف گمشدہ چیز کے متعلق اعلان کرنا مسجد میں منع کیا گیا ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ مسجد ہیں جو کام ہوں وہ قومی ہوں ذاتی نہیں۔گویا مسجد اجتماعی جگہ ہے اور وہاں ایسے کام ہو سکتے ہیں جو اجتماعی اور قومی ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ جو کام وہاں ہوں وہ قومی فائدہ کے بھی ہوں اور نیکی کے بھی ہوں۔گویا جو کام نیک ہے اور قومی فائدہ کا ہے اسے ذکر الہی کا قائمقام قرار دیا گیا ہے۔اس کی تصدیق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بھی ہو جاتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں جو شخص وضو کر کے مسجد میں آئے اور وہاں امام کے انتظار میں بیٹھے تو خدا کے نزدیک وہ ایسا ہی ہے کہ گویا وہ نماز پڑھ رہا ہے۔اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی قومی کام کے لئے انتظار میں بیٹھنا نماز کا قائمقام ہوتا ہے۔پیس مساعد خالی سبحان اللہ سبحان اللہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان میں قومی کام بھی کئے جا سکتے