تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 348 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 348

۳۴۴ بھاتی ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ صحیح طرزین کر رکھنے والوں تک ہمارے نظریات کو ان کے اصل رنگ میں پیش کیا جائے اور حق اور فلاح کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی بجائے۔اس مطلب کے لئے دباؤ یا شہر کا استعمال خود اصل مقصد کے منافی ہوگا کیونکہ جس کسی آدمی پر یہ دباؤ استعمال کیا جائے گا اس کا رد عمل یہ ہوگا کہ جس منکر کی دعوت دی جارہی ہے اس کا آزادانہ مطالعہ کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا اور اسے ایک ایسی بات مانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جسے اس کا تخمیر تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔این مسئلہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے (کہ) جنس فرقہ کے نمبروں پر جبر و اختیار استعمال کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے خود ان کے عقائد و نظریات کو ان لوگوں کی طرف سے غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو اکثریت میں ہونے کا دعوئی رکھتے ہیں، ان حالات میں اس فرقہ کے نمبروں کے لئے اثر ور شوخ استعمال کرنا ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔اس بارے میں حکومت کی طرف سے جو اعلان کیا گیا ہے میں اُس کا خیر مقدم کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ پاکستان کے ہر طبقے کے لوگ دلی طور پر اس کا خیر مقدم کریں گے اور ملک میں امن و سکون اور برداشت کا ماحول پیدا کرنے میں محمد ہوں گے۔ایمان اور یقین ایسے مقاصد ہیں جنہیں مناسب ماحول پیدا کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔کسی شخص کو ایک ایسی بات تسلیم کرنے پر جسے اُس کا ضمیر نہیں مانتا مجبور کرتا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔کوئی آدمی جو اس قسم کا دباؤ ڈالتا ہے وہ چاہے کوئی وزیر ہو، افسر ہو یا عام آدمی پر خلص مومن پیدا کرنے کے بجائے ریا کار پیدا کرنے کا باعث ہوگا۔(ا پ پ لے لو لے اخبار نوائے وقت (لاہور) کاراگست ۱۹۵۲ء صب کا لم ۲-۳ سے جناب خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم پاکستان نے تحقیقاتی عدالت پنجاب میں بیان دیا :- امس اعلامیہ نے وزیر خارجہ کے خلاف الزامات کو لازماً قبول نہیں کیا لیکن ان کے متعلق عام طور پر مشہور تھا کہ وہ احمدیوں کی امانت کرتے اور دوسروں کو اپنے فرقہ میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکں نے اس سلسلہ میں ٹھوس شکایات پیش کرنے کو کہا لیکن ایسی شکایات نہیں مل سکیں یا د روزنامه ، بیت لاہور ۵- دسمبر ۶۱۹۵۳ ص۲)