تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 347
سلام بوم ایک پریس نوٹ جاری کیا کہ حکومت پاکستان کو اکثر شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے بعض حکام جو ایک خاص فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اپنی سرکاری حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے ماتحتوں اور ایسے آدمیوں میں اپنے فرقوں کی تبلیغ کرتے ہیں جن سے انہیں اپنی سرکاری حیثیت کی وجہ سے ملنے جلنے کا موقعہ ملتا رہتا ہے۔حکومت اس صورت حال کو بہت تشویش کی نگاہوں سے دیکھتی ہے اور اُس نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مذموم اور نا پسندیدہ روش فوراً بند کی جائے اور اس قابل اعتراض طریقے سے کسی مذہبی فرقہ کے حق میں پروپیگینڈا کو مضوع قرار دیا جائے لیے چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان نے حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے حسب ذیل پیغام دیا :- • یکن ایک مسلمان ہوں اور اس لحاظ سے یکیں اسلام کی قرآن میں دی گئی تعلیمات اور رسول کریم ر صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حیات کی روشنی میں آزادی ضمیر میں ایک مجذ باقی آدمی کی طرح یقین رکھتا ہوں۔میرے تن دیک سرکاری دباؤ اور اثر کا استعمال آزادئی ضمیر میں مداخلت اور جبر و استبداد کے مترادت ہے، دوسری طرف جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے ہر سلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھائے اور یہ ایک ایسا اہم فرض ہے جو مسلمانوں نے اپنے زوال کے ایام میں افسوسناک حد تک بھلا دیا تھا اور اس کا اثر ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر پڑا۔میرے ذاتی نظریات کوئی سربستہ راز نہیں، ہر وہ آدمی جو ذاتی طور پر مجھے یا میرے نام سے جانتا ہے کسی حد تک میرے نظریات سے آگاہ ہے۔حال ہی میں بعض حلقوں کی طرف سے میرے یہ نظریاتی خلط رنگ میں اور مسلح کر کے پیش کئے گئے ہیں۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں اپنے مذہبی عقائد کو کسی بھی دوسرے شخص پر سرکاری حیثیت یا اختیار استعمال کر کے ٹھونسنا اسلام کے اصول کے خلاف تصور کرتا ہوں مجھے جس فرقہ سے وابستہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس میں اس تصور کو پوری طرح اپنایا جاتا ہے۔اور اگر اس فرقہ کا کوئی فردانہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا جائے تو مجھے اس کا انتہائی صدمہ ہوگا۔یہ درست ہے کہ ہمارے نظریات اور عقائد کی اشاعت ہمارے محدود وسائل سے کہیں بڑھ کر کی لے آفاقی ۱۷ اگست ۱۹۵۲ ۶ صبا به ܀