تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 340
۳۳۶ یہ الزام ہے پاکستان کا وزیر خارجہ اس کا ممبر ہے پس وہ اس سے ناواقف نہیں ہو سکتا۔ان حالات میں ایک نامہ نگار کی خواب پریشان پاکستان کے لئے کتنی مشکلات اور بدنامی کی صورت پیدا کر سکتی ہے اور کیا یہ ظفر اللہ خان کی خدمات پاکستان کا اچھا بدلہ ہو گا ؟ ہر گز نہیں، علاوہ اس کے کہ یہ جھوٹ ہے، یہ ایک و خانوار دوست پر نا واجب حملہ بھی ہے جیسے سر کا غیور مسلمان یقیناً برداشت نہیں کرے گا سے اس کوشش کے بعد جو عرب اور مصر نے پاکستان کی مملکت کے استحکام کے لئے کئی ایسی آواز کو اُٹھنے دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گالَّتی نَقَضَتْ غَيْلُهَا مِنْ بَعْدِ قَوَّةِ الْكَا نا لیں اس وع پر اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالی تمام سلمان ممالک کو اس لمبی نیند سے بیدار ہونی کی توفیق بخشے جس میں وہ مبتلا تھے اور اغیار کے تصرفات سے ان کو آزاد کرے اور سلمان کی اس شان کو بحال کرے جو اسے گزشتہ زمانہ میں حاصل تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ عزت اسے عطا کی ہے۔الہم آمین میر تا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کے مندرجہ بالا مکتوب کا عربی ترجمہ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے کیا اور یہ اخبار الیوم کے علاوہ مشرق وسطی کے دوسرے اخبارات کو بھی بھیجوایا گیا جن میں سے المثقافة * بیروت المساء نداء الوطن» (۱۱-۱۲ - اگست ۱۹۵۲ء) میں چھپا۔بر صغیر پاک و ہند کے اخبارات میں سے اخبار سول اینڈ ملٹری گزیٹ (۲۹ ستمبر ۱۹۵۲ء) جنگ (۲۹ ستمبر ۶۱۹۵۲ ) ٹریبیون (۳۰ اگست ۱۹۵۲۰ء) میں بھی اسکی خبر شائع ہوئی۔عربی رسالہ البشری" (حیض) نے اپنے ماہ اگست ۱۹۵۲ء کے پرچہ میں اس کا تفصیل ترجمہ دیا اور مشرق وسطی کے علا وہ دوسرے ملکوں میں اس کی بکثرت اشاعت کی اور اس طرح عرب دنیا پر بتدائی نشان اور محبت و برہان دونوں اعتبار سے محبت تمام ہوئی۔ا حضور نبی صلح موعود نے جہاں اخبار اليوم ما ختم نبوت متعلق ایک ضاحتی بیان کے ذریعہ مشرق وسطی کے اسلامی ملک ل النحل : ۹۳ (ترجمہ) اس عورت کی مانند مت ہو جس نے اپنے کا تے ہوئے سکوت کو اُس کے مضبوط ہو جانے کے بعد کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا ہے کے الفصل نہم تو کی ۱۳۳۱ ایش ۲۴۷ ستمبر ۶۱۹۵۲ ص ۳۶