تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 339
۳۳۵ ایسا ارادہ نہیں اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے مجانین نہیں جو اس قسم کے خیالات کو اپنے دل میں جگہ دیں۔ہم یہ جائز نہیں سمجھتے کہ بغیر اس کے کہ غیر تو میں ہم سے لڑیں ہم ان سے خود ہی جنگ شروع کر دیں۔یہ مغربی حکومتوں کا حصہ ہے اور انہیں کو مبارک رہے۔اسلام نے کبھی بھی اپنی حکومت کے زمانہ میں اپنے کمزور ہمسایہ پر دست درازی نہیں کی۔وسطی اور جنوبی افریقہ کے وسیع علاقے اس بات کے شاہد ہیں کہ شمالی افریقہ میں باقاعدہ حکومتیں قائم تھیں جو اسلام سے ٹکرائی اور اسلام اُن سے ٹکرا یا لیکن اسلام کے لشکر جب ان حدود تک پہنچے جہاں پر تخاصم حکومتوں کی حدیں ختم ہوتی تھیں اور کمزور قبائل کے علاقے شروع ہوتے تھے وہاں وہ ٹھر گئے اور انہوں نے جنگ بند کر دی۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج یورپین لوگوں کے لئے افریقین کا لونیز کے بنانے کی گنجائش نہ رہتی۔وسطی اور جنوبی افریقہ کی کونسی طاقت تھی کہ جس نے مسلمانوں کے ان شکروں کو روکا جنہوں نے روسی ، ہسپانوی، فرانسیسی اور اطالوی منظم لشکروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔وہ اسلام کی منصفانہ، عادلانہ اور ہیمانہ تعلیم ہی تھی جس نے یہ ظیم الشان معجزہ دنیا کو دکھایا اور جس کی بدولت ایک مسلمان ہر سیاسی مجلس میں یورپ اور امریکہ کے سیاسی لوگوں کے سامنے اپنا سر اونچا رکھ سکتا ہے۔مضمون ختم کرنے سے پہلے یکیں عرب اور مصر کے پریس کو ایک خاص ذقتہ واری کی طرف تو بقیہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک لیسے افتراق کے بعد اکثر مسلمانوں میں اتحاد کا جوش پیدا ہو رہا ہے۔پاکستان سے عرب ممالک اور مصر نے جس ہمدردی کا سلوک کیا ہے یا عرب اور اسلامی امور سے جس ہمدردی کا ثبوت پاکستان نے دیا ہے وہ اس زمانہ کی خوش گوار ترین باتوں میں سے ہے مگر مذکورہ بالا امر کی اشاعت نے جماعت احمدیہ ہی نہیں پاکستان کے دستہ میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔اس مضمون کی بناء پر جو سرتا پا غلط ہے ہندوستان پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے کہ اس میں رہنے والی بعض جماعتیں ہندوستان پر حملہ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں ہم بتا چکے ہیں کہ یہ الزام سو فیصدی غلط ہے مگر ہندوستان کا متعصب عنصر اس الزام سے ضرور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ الزام ایک جماعت پر ہے نہ کہ پاکستان پر کیونکہ ہندوستان کا متعصب گروہ کہے گا کہ جس امر کی اطلاع مصر کے ایک نامہ نگار کو مل گئی پاکستان کی حکومت کو اس کی کیوں اطلاع نہ ملی ہوگی۔دوسرے وہ کہیں گے کہ جس جماعت پر