تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 327 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 327

۳۳۳ تحصیل کے لئے دنیا کے ترقی یافتہ علاقوں میں بھیجا جائے تاکہ از ہر یونیورسٹی کو عیدید لباس پہنایا جاسکے اور اس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی تدریس کا بھی انتظام ہو سکے۔یہ تبدیلی دور رس نتائج کی حامل ہونی چاہیے تاکہ الازھر علمی لحاظ سے ایک جدید یونیورسٹی کی شکل اختیار کرے جس میں صحیح خطوط پر آزادانہ بخشیں ہوں اور اس طرح دین قرآن کریم اور احادیث نبوی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اسے محض علماء کی سند کی بجائے عقل کی تائید بھی حاصل ہو۔ہے ا مفتی مصر کو مصری پر لیں اور شخصیتوں کے احتجاج اور مذمت پر اپنے مفتی مصر کا بیان فتوئی کے چومیں گھنٹوں کے اندراندر یہ بیان دینا پڑا۔:- " إن ما نشر ليس بفتوى رسمية وليس لها رقم في سجل خاص وإنما هي مجرد حديث دار فى مجلس خاص يتضمن رأى فضيلته في هذه المسئلة "له یعنی شائع شدہ بیان سرکاری فتویٰ نہیں ہے اور نہ اس کا اندراج خاص رجسٹر میں ہوا ہے اس کی حیثیت ایک بھی مجلس کی گفتگو سے زیادہ کچھ نہیں اور مسئلہ مذکور دین محض ایک شخصی رائے کی ہے۔مفتی مصر نے ایک اور بیان میں کہا :- انه فوجى بنشر حديثه مُحَرَفاً ومنسوبا اليه بوصفه الرسمى و باعتباره فتوی صدرت عنه سے یعنی اچانک اُس کی گفت گو محترف و مبدل کر کے اور اسے فتوئی ظاہر کر کے شائع کی گئی ہے۔بالآخر مفتی حسین محمد خلون ریٹائر ڈ کر دئیے گئے۔اخبار مفتی مصر کو پنشن دیدی گئی المحشور ( ۱۲ مارچ ۱۹۵۴ء) نے لکھا یہ في الاسبوع الماضى احيل فضيلة الاستاذ الشيخ حسنين محمد ما لے (ترجمہ) اخبار اليوم عدد ۲۹۹ مورخه ۲۸ جون ۱۹۵۲ء بحواله روزنامه افضل لاہور، جولائی ۱۰/۶۱۹۵۷ و فا ۳۳ پیش لے اخبار المصرى (۲۳ جون ۴۱۹۵۲) سکے اختیار المصرى " ۲۸ جون ۱۹۵۲ بحواله البشري (حيفا) ذی الحجه ۱۳۷۱ منا: