تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 326
مفتی مصر کے فتوئی پر صرف تنقید ہی نہیں کی گئی مفتی مصر کے لقب کی منسوخی کا مطالبہ بلکہ مشہور ومعروف مصری مصنف ڈاکٹر محمد کی بک نے مطالبہ کیا کہ مفتی مصر" کے لقب کو حکومت آئندہ کے لئے مفشوخ قرار دیدے۔آپ نے کہا :- مفتی مصر نے کسی حیثیت سے خارجی مسائل و معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے وزیر خارجہ پاکستا کے متعلق کفر کا فتویٰ صادر کیا ہے ؟ اور اسے حق کیا پہنچتا ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے موصوف کو اس عہد و جلیلہ سے ہر طرف کرنے کا مطالبہ کرے جبکہ پاکستان ایک علیحدہ آزاد خود مختار مملکت ہے ؟ اس نے ہزارہا میل دور بیٹھ کر یہ مطالبہ سننے اور سُنانے کے بغیر کیا ہے اور اس طرح مذہب کے نام پر سب سے بڑی اسلامی حکومت کی پوزیشن کو نازک بتایا ہے لیکں پوچھتا ہوں و من اعطال حق الافتاء ہم کسی شخص نے مفتی کو فتوئی کا حق دیا ہے اور کس شخص نے مفتی کو مذہب کے نام پر تمام دنیا کے متعلق رائے ظاہر کرنے کی اجازت دی ہے۔کیا مصر ہی صرف ایک اسلامی حکومت ہے اس کے سوا اور کوئی حکومت اسلامی حکومت نہیں ہے ؟ اور کیا صرف مفتی مصر ہی دنیا میں ایک مفتی ہے اور اس کے سوا اور کوئی مفتی نہیں ہے ؟ وفى اى رجل انتى ؟ فى رجل صنع للاسلام والمسلمين ما لم يصنعه المفتى ولن يصنعه ولو عاش مثل عمره الحاضر اس نے کسی عظیم المرتبت شخص کے متعلق یہ فتویٰ دیا ؟ ہاں اس شخصیت عظیمہ کے متعلق جس نے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے وہ کام کیا ہے جو نہ مفتی کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا خواہ وہ اپنی موجودہ عمر کے براہمہ بھی زندہ رہے۔ان تمام وجوہات کی بناء پر ہم مطالبہ کرتے ہیں :۔اول : یہ مفتی الدیار کے لقب کی منسوخی کا کیونکہ وہ ایک فرد کی حیثیت سے ڈکٹیٹر شپ کی نمائندگی کرتا ہے جس کی دین میں کوئی سند نہیں ہے۔دوم : مجلس افتاء کے توڑنے کا کہاں اس مجلس کو مختلف علمی امور کی تحقیقات کے ایسے حلقے میں بدل دیا جائے جس کا فیصلہ نہ تو کسی کو عزم بنائے اور نہ ہی کسی مسلمان کو کا فر ٹھہرائے۔سور :- از ہر یونیورسٹی کے ایک سو نو جوانوں کو یونیورسٹی سے فراغت کے بعد علوم میدیدہ کی