تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 303
۲۹۹ چھوڑتا ، وہ دوسروں پر خود حملہ نہیں کرتا، وہ خود آئین شکنی اور فساد نہیں کرتا، وہ دوسروں سے لڑتا نہیں لیکن جہاں تک عقائد کا سوال ہے وہ قانون سے بالا ہیں کیونکہ خدا تعالی اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔خدا اور بندے کے درمیان کوئی حکومت بھی کھڑی نہیں ہو سکتی۔جهای تک مذہب اور ایمان کا سوال ہے کسی حکومت کو اس میں دخل حاصل نہیں۔ایسی کوئی حکومت نہیں جو کسی کے مذہب میں دخل دے۔۔عقیدہ کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے یہ حکومت کے زور سے بدلا نہیں جاسکتا۔اگر عیسائی کسی مسلمان کو ماریں اور کہیں کہ تم تین خدا تسلیم کر لو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص مجھے پکڑلے اور کہے تم یہ کہو کہ یکی ایک نہیں دو ہوں تو خواہ وہ کتنا عذاب دے میں اپنے آپ کو ایک ہی کہوں گا۔پس اگر خدا تعالیٰ ایک ہے تو کون کہے گا کہ خدا تین ہیں اگر کمزور طبیعت کا کوئی شخص تین خدا کہ بھی دے تو اس کا اپنا دل تسلیم کرلے گا کہ میں ایسا کہنے میں سچا نہیں جان بچانے کی خاطر میں نے جھوٹ بولا ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیچھے ہیں تو خواہ سارا شہر چڑھ آئے ،لاکھ دو لاکھ کا جتھا حملہ کر دے ، ڈرائے اور طاقت کا رعب دے کر کہے تم کہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (نعوذ باللہ) جھوٹے ہیں تو ہم کس طرح آپ کو جھوٹا نہیں گئے۔کمزور طبیعت انسان اگر کہر بھی دے تو اس کا دل اُسے جھوٹا کہ رہا ہوگا دی سمجھتا ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسّلام سینچے ہیں جھوٹا میں ہوں میں نے بزدلی دکھائی ہے پس تم اپنے ایمان کو مضبوط کر دو اور ساتھ ہی اپنے جذبات پر قابورکھور میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ہم کیا کریں۔ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آخر ہم کب تک مار کھاتے بجائیں گئے۔یکی اُن کی اِس بات کا یہی جواب دیتا ہوں کہ تم ماریں کھاتے جاؤ جب خدا تعالیٰ نے تمہیں اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تم ماریں کھاؤ تو میں کون ہوں جو تمہیں بچا سکوں جیس حرکت پر مشوق راضی ہوتا ہے عاشق وہی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے لکھا جہاد کرنا بڑی اچھی چیز ہے لیکن اگر بخدا تعالیٰ نے تم سے انگریزوں کے مقابلہ میں جہاد کروانا ہوتا تو وہ تمہارے ہاتھ میں تلوار دیتا۔اگر اُس نے ان کے مقابلہ میں تم سے تلوار چھین لی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انگریزوں سے جہاد کرنے کا موقعہ نہیں۔اب تلوار ہمارے ہاتھ میں آگئی ہے۔پاکستان آزاد ہو چکا ہے اب ہم بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی پاکستان کی آزادی میں فرق لائے تو جہاد فرض ہو جائے گا۔یہی دلیل ہمیں بھی