تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 16 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 16

۱۴ ار مارچ ۲۶۱۹۵۱ آپ حضرت مسیح موعود کے قدیم صحابی اور بلند پایہ شاعر حضرت منشی گلاب الدین صاحب رہتا ہی کے بیٹے اور خود بھی نغز گواور پر جوش فطرتی شاعر تھے جو عرصہ دراز تک احمدیتے اور اگر دو ادب کی خدمت کرتے رہے۔آپ کے اشعار کا مجموعہ کلام حسن کے نام سے شائع شدہ ہے کہ ملی تقسیم ہم19 کے بعد آپ جہلم میں تشریف لے آئے۔وفات سے دو ماہ قبل لائلپور میں فروکش ہوئے جہاں بیمار ہو گئے جماعت احمدیہ لائلپور نے ان کے علاج معالجہ اور تیمار داری کی پوری کوشش کی مگر ہماری جان لیوا ثابت ہوئی اور آپ۔۱۔امان ۱۳۳۰ اہش / ۱۰ مارچ ۱۹۵۱ء کو انتقال فرما گئ اور لائلپور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے ہے -۴ حضرت شیخ عبد الرشید صاحب بٹالوی :- (ولادت اندازاً ۶۱۸۸۰ زیارت ۲۱۹۰۰ - بیعت ۶۱۹۰۱ - وفات ۲۷ ہجرت ۳۳۰اہش / ۲۷ مئی ۲۶۱۹۵۱ آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان مخلص صحابہ میں سے تھے جو عہد شباب کے آغاز میں احمدیت سے وابستہ ہوئے اور باوجود خاندانی مخالفت کے آخر دم تک حق و صداقت کو پھیلانے میں کوشاں رہے۔آپ کی بیعت کا موجب عبد اللہ اور چراغ الدین نامی دو شخص تھے جو امر تسر سے بٹالہ آئے اور قادیان جانے کا شوق ظاہر کر کے آپ کو بھی ہمسفر بتانے میں کامیاب ہو گئے۔قادیان پہنچے جہاں ان کا ایک رشتہ دار گورنمنٹ کی طرف سے اس خفیہ ڈیوٹی پر تعین تھا کہ آنے والے مہمانوں کے نام نوٹ له الفضل ۱۵- امان ۱۳۳۰ پیش / ۱۵ مارچ ۱۹۵۱ ۶ ص : که حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۸ ستمبر ۱۸۹۲ء کو انہیں تحریر فرما یا : ” بیعت کنندوں کے ۳۵ میں آپکا نام ہے یا « سراج منیر میں حضور نے آپ کی ایک منظم درج فرمائی ہے۔۲۳ نومبر ۱۹۲۰ء کو جہلم ہسپتال میں انتقال کیا۔قلعہ روہتاس کے دروازہ خواص خوانی کے باہر آپ کا مزار ہے۔(الفضل ۲۷ جنوری ۱۱۹۲۱ مش مش ) : سے مرتبہ ڈاکٹر ملک نذیر احمد صاحب ریاضی۔بھابڑا بازار را ولپنڈی ؟ ه روزنامه الفضل ۱۵- امان ۳۳۰ اهش کر ۱۵ مارچ ۶۱۹۵۱