تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 17
JA کر ہے۔اُس دن حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین بھیروی نے الحمد کی تفسیر فرمائی جس نے آپ کے دل پر خاص اثر کیا۔اس کے بعد آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ گول کمرہ میں کھانا کھانے اور حضور کی زبان مبارک سے نئے سے نئے حقائق و معارف سننے کا شرف بھی حاصل ہوا۔حضرت اقد سن علیہ السّلام کے نورانی چہرے اور پر جذب کلام نے آپ پر گرانقش قائم کر دیا اور آپ بار بار قادیان جانے لگے اور پھر جلد ہی حضرت مهدی موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔قبول احمدیت کے بعد آپ پر مخالفت کے گویا پہاڑ ٹوٹ پڑے۔اہلحدیث برادری نے قاضیہ حیات تنگ کر دیا۔اور تو اور آپ کی والدہ صاحبہ بھی آپ پر بہت سختی کرتی تھیں اور آپ کو عاق کرانے کے درپے ہوگئیں۔آپ کے والد صاحب نے شروع میں تو یہ جواب دیا کہ پہلے یہ دین سے سراسر غافل و بی پروا تھا مگر اب نمازی بلکہ تہجد گزار بن گیا ہے ایسے میں کس بات پر عاق کر دوں لیکن بعد ازاں وہ بھی اپنی برادری کے سامنے جھک گئے جس پر آپ کو کئی ماہ تک گھر سے باہر رہنا پڑایک آپ کا وجود جماعت احمدیہ بٹالہ کے لئے ایک ستون کی حیثیت رکھتا تھا چنانچہ مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل (سابق سود اگر مل ) تحریر فرماتے ہیں کہ : " بٹالہ میں احمدیت کا مرکزہ ان کا مکان ہی تھا بہت خوش خلق ، مہمان نواز اور سبھی تھے۔ساری یر جماعت بٹالہ کے پریذیڈنٹ رہے۔بٹالہ میں احمدیوں کے غیروں کے ساتھ متعد د مناظر سے اور جلسے ہوئے ان کا انتظام بھی حضرت شیخ صاحب کے ذمہ ہوتا تھا اور عموماً مہمان نوازی کے فرائض بھی شیخ صاحب ہی سر انجام دیتے تھے ا سے ۵ - میاں محمد صاحب بستی مندرانی تحصیل سنگھڑ ضلع ڈیرہ غازی خان :- ) ولادت ؟ وفات 19 تبوک، ۳۳اہش / ۱۹ ستمبر ۶۱۹۵۱ ) آپ ایک نیک طبع ، غریب النفس مگر دل کے غنی اور وینی غیرت رکھنے والے بزرگ تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود کے ذکر پر آپ کی آنکھیں اکثر پر نم ہو جایا کرتی تھیں۔ناخواندہ ہونے کے باوجود آپ ہمیشہ پر اثر رنگ سے تعلیمیافتہ لوگوں تک پیغام حق پہنچاتے رہے۔له العقل هم تبوک ۱۳۳۰ ش رسم ستمبر ۶۱۹۵ صدا مضمون حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ) سے لاہور تاریخ احمدیت ۳۸ موقفه مولا ناشیخ عبد القادر صاحب - طبع اقول ۲۰ فروری ۱۹۶۶ء)