تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 15
تبلیغ سے قائم ہوئیں۔آپ کے بیٹے چوہدری عبداللہ خان صاحب کی روایت ہے کہ آپ نے بتایا کہ ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط ملا جس میں چند لنگر خانہ کی تحریک تھی میرے پاس اس وقت کوئی روپیہ موجود نہ تھا میں نے اسی وقت حضرت اقدس کی خدمت میں واپسی خط لکھا کہ ایک شخص میری کچھ اراضی خریدنا چاہتا ہے اس کی آمد پیش حضور کر دوں گا۔دعا فرمائیں حضور کا اپنے قلیم مبارک سے لکھا ہوا جواب ملا کہ دعا کی گئی اللہ تعالیٰ آپ کی یہ منشاء پوری کرے۔اس خط کے چند دن بعد میرا یہ کام ہو گیا اور روپیہ بھی مجھے مل گیا۔چنانچہ میں یہ رقم لئے پیدل قادیان کی طرف روانہ ہو گیا۔دریائے بیاس کو سمیٹ کے پتن سے پار کیا ہی تھا کہ کانگڑہ کا زلزلہ آ گیا۔قادیان پہنچے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے باغ میں تشریف فرما تھے میں نے وہ رقم پولی کی صورت میں حضور کی خدمت میں نذر کر دی۔(یہ ۲ اپریل ۱۹۹۵م کا واقعہ ہے ، چوہدری امیر محمد خان صاحب کے نزدیک حضرت مصلح موعود کے حسب ذیل الفاظ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے :- پھر جب زلزلہ آیا اور حضرت اقدش باہر باغ میں تشریف لے گئے اور مہمانوں کی زیادہ آمد و رفت وغیرہ ذالک وجو ہات سے لنگر کا شریح بڑھ گیا تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ قرض لے لیں۔فرماتے ہیں کہیں اسی خیالی میں آرہا تھا کہ ایک شخص ملا جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھے اور اُس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دے دی اور پھر الگ ہو گیا۔اس کی حالت سے میں ہرگز نہ سمجھ سکا کہ اس میں کوئی قیمتی چیز ہوگی لیکن جب گھر آکر دیکھا تو دو سو روپیہ تھا۔حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی حالت سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی ساری عمر کا اندوختہ لے آیا۔پھر اس نے اپنے لئے یہ بھی پسند نہیں کیا کہ مکھی پہچانا جاؤں۔یہ شاکر کا مقام ہے؟ شہ ۳ منشی حسن دین صاحب رہتاسی -:- ربیعت ۱۸۹۶ وفات ۱۰- امان ۱۳۳۲ پیش له الفضل الاضاء ۳۳۰ پیش / ۱۱ اکتوبر ۱۹۵۱ء مت ہے ید که او جنوری ۱۹۱۲ ء مث کالم ۲ ( تقریر جبل الانہ 1911 بعنوانی مدارج تقولى : روایات صحابہ (غیر مطبوعه) جلد ۱۳ صنا به