تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 234 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 234

۲۳۱ ہند کی جن شخصیتوں نے زبر دست نوقت کی ان کے نام یہ ہیں :۔دیوبندی عالم مولانا منتور الدین صاحب - ۲- اہل حدیث عالم مولانامحی الدین صاحب قصوری ممتاز صحافی مولانا عبدالمجید سالک - ۴- صدق جدید لکھنو کے ایڈیٹر مولانا عبد الماجد صاحب دریا آبادی ه مصور فطرت خواجہ حسن نظامی مدیر منادی دہلی۔۶۔بھارتی مسلمانوں کے رسالہ مولوی کے مدیر مولوی عبد المجید خان صاحب ا مولانا منتور الدین صاحب ( معتقد مولاناحسین علی آن واں بھچراں ضلع میانوالی) نے اپنے رسالہ مکتوب بنام علماء“ میں لکھا:۔حضرات میں یقینا کہتا ہوں جس ڈھب سے تم لوگ مرزائیوں پر فتح پانا چاہتے ہو اس میں تم ہرگز کامیاب نہ ہو سکو گے کیونکہ اعداء پر فتح پانے کی جو شرائط قرآن مجید نے بیان کی ہیں قرآن کو اٹھا کر پڑھو خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے۔اِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ادھر تمہارے لیڈیوں کو ایمان کی خر نہیں۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے انتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُم مُؤْمِنين و هر تمهاری تحریک میں اکثریت مشرکوں کی ہے۔بخدا تعالیٰ تو فرماتا ہے ومن يتول الله ورسوله والذين امنوا فان حزب الله هم الغالبون یہ ادھر آپ کی تولی والدین اشر کو ا سے ہے خد اتعالیٰ کی ذات کو حاضر ناظر جانتے ہوئے آپ فرمائیں کیا یہ تحریک ساری کی ساری مجموعہ علماء سوء نہیں ؟ کیا آپ لوگ قلباً وصدر اظفر علی خاں اور اختر علی جیسے ابناء الوقت کو دینی پیشوا ما۔ہیں؟ کیا تمہاری تحریک میں کوئی کامل اہل اللہ وارث علوم نبوی ہے؟ کیا تم میں کوئی حکیم الامت تھانوی کیا ہے ؟ کیا تم میں کوئی المعیل شہید جیسا امام موجود ہے ؟ کیا تم میں کوئی جنید وقت حضرت مولانا حسین علی مرحوم حبیبی کوئی موحد موجود ہے۔ہاں لے دے کر آپ کے پاس ایک امیر شریعت موجود ہے جس کی شریعت کی حقیقت سے آپ لوگوں کے مینے تو واقف ہیں لیکن کیا کہوں اُن زبانوں کو جن پر آج مہریں لگ گئی ہیں۔ادھر خدا کے چند بندے جو خدا کی توحید سناتے تھے انہوں نے قسم اٹھالی کہ ہم کلمہ توحید ہر گز کسی کو نہ سنائیں گے۔گویا ان کے نزدیک ربانی حکم سَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَ اصيلا آج سے منسوخ ہو گیا ؟ جس کا یہ مطلب تھا کہ اے مومنو اصبح شام خدا کی توحید بیان کرو اور اس کو جیروم ے سورہ غافر : ۵۲ سے آل عمران : ۱۴۰ به سه الانبیاء: ۳۵ + که الاحزاب : ۵۴۳ کے