تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 235
۲۳ مشریکوں سے پاک کہو۔سوچئے ابھلا جس کشتی تحریک کے ایسے ناخدا ہوں کیا وہ ساحل تک پہنچ سکتی۔۔۔"94 یہ حضرات نیز اصلاحاً کہتا ہوں کہ آپ کی تحریک کسی خدائی تحریک کے نقش قدم پر نہیں ہے کیونکہ آسمانی کتابیں گواہ ہیں کہ خدائی تحریکوں نے ابتداء ہمیشہ دلائل سے کام لیا نہ کہ زور اور لاٹھیوں سے۔ہاں باطل تحریکیں جب دلائل سے عاجز آجاتی ہیں تو کبھی اکثریت کے بل پر اقلیتوں کو ملک بدر کرنے کو تازیانہ دکھاتی ہیں جس طرح قوم لوط نے کہا لان لَمْ تَنْتِهَ يَالُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ المخرجين اور کبھی واویلا کرتی ہیں کہ فلاں اقلیت ملک میں ارتداد پھیلانا چاہتی ہے اور ملک میں انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے جس طرح فرعون نے کہا ائی اخاف ان يبدل دینکم او ان يظهر فی الارض الفساد اور کبھی حکام کے پاس جا کر سیتی اقلیتوں پر جھوٹے الزام لگاتی ہیں جن کی وجہ سے ہزاروں خدا کے پیارے بندوں کو بے جا آلام و مصائب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔اسلامی تاریخ میں ذرا امام اعظم امام احمد مقبل " امام ابن تیمیہ مجدد الف ثانی رحمہ اللہ علیم کے حالات ملاحظہ فرمائے بائیں۔۔۔۔اور باطل تحریکیں کبھی اکثریت کے نشہ میں آکر سختی اقلیتوں کو کھلنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں اور مملکت کے کونہ کو نہ میں اپنے دائی بھیجتی ہیں جو عوام میں یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ فلاں اقلیت نے ہم کو تنگ کر رکھا ہے آؤ ہم سب اکٹھے ہو کر اس کا استیصال کر دیں جس طرح فرعون نے کیا فارس فرْعَوْنَ فِي الْمَدَا بِنِ حَشْرِينَ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَشِرُ ذِمَةُ قَلِيلُوْنَ لا وَ إنَّهُمْ لَنا لَنَا بِظُونَ وَاِنَّا لَجَمِيعُ حَدِرُونَ سے اس مقام پر یکی حکومت پاکستان کے با اقتدار طبقہ کی روشن ضمیری پر بھی داد دیتا ہوں جنہوں نے خوب سمجھ لیا ہے کہ اگر مطالبیرا خوار آج مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا گیا تو کل دیو بندیوں کو اقلیت قرار دینا پڑے گا اور پرسوں اہلحدیثوں کو علیٰ ہذا القیاس۔اور اس طرح سے ملت پاکستانیہ کا شیرازہ یکھر جائے گا اور اس نوزائیدہ مملکت کا وجود ہی سرے سے ختم ہو جائے گا۔اور میں گورنر جنرل پاکستان کے ان الفاظ کی بہت قدر کرتا ہوں جو انہوں نے کراچی میں ایک کا نفرنس میں کہے کہ ه الشعراء : ۱۶۸ ب له غافر : ۲۷ : سے الشعراء : ۰۵۴ :