تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 233
۲۳۰ ان اختلافات کی بناء پر کسی انسان کو گردن زدنی قرار دیتا نہ اسلام کی رو سے جائز ہے، نہ انسانیت کی رُو سے احسن، اور نہ اختلافات کو ہوا دینے سے کسی فائدہ کی توقع ہو سکتی ہے۔البتہ بر خلاف اس کے ملی اور ملکی نقصان کے امکانات زیادہ ہیں۔پاکستان بننے کے بعد خود احمدیوں کا وطن اور اصلی مرکز ان سے اس بناء پر چھن گیا کہ انہیں بھی مسلمان سمجھا گیا تھا۔اس لئے اس سر زمین میں رہنے بناء اور لینے کے لئے ان کے حقوق بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔پاکستان سے پہلے احمدیوں کے ملالی تکفیر بازی کا فتوی دینے والے سات کروڑ کی اکثریت کے باوجود حکومت وقت سے یہ مطالبہ نوائے سے قاصر رہے کہ احمدی مسلمانوں سے علیحدہ ایک مختصر سی جماعت ہیں۔آج پاکستان میں وہ ایک پناہ گزین جماعت کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ایسی صورت میں ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کا جواز پیدا کرنا ہمارے نزدیک بین الانسانی اخلاق کے لحاظ سے بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ہمارا اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ احمدیوں کو اپنے عقائد کی بر سر عام اشاعت اور تبلیغ کے لئے کھلی چھٹی دے دی جائے۔احمدی ہوں یا غیر احمدی کسی کو کسی کے جذبات کی بے احترامی کی اس سرزمین پر اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ امن اور رحمت کی سرزمین ہے جسے ہم نے لاکھوں بھانی، مالی اور آبروئی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔اس سر زمین پر اس قسم کی ہنگامہ آرائیوں کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ دشمنان وطن اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا کر ملک کی تو بقیہ تعمیری کاموں سے ہٹا کر ہماری تباہی کا باعث نہیں اور لیں۔احمدیوں کے عقائد کی تردید اور مخالفت بو سعہ احسن بھی ہو سکتی ہے وہ اس طرح کہ علمائے اسلام متفقہ طور پر اُن صحیح عقائد سے مسلمانوں کو روشناس کرنے کی کوشش کریں جنہیں اچھی طرح سمجھ کر کوئی مسلمان احمدیوں کے پھندے میں نہیں پھنس سکے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس موعظہ حسنہ سے بعض احمدی حضرات بھی آپ کے ہم خیال ہو جائیں۔کسی کے عقیدہ کو طاقت اور قانون سے توڑنا کامیابی کی دلیل نہیں ہو سکتی ہے اقلیت کی برصغیر پاک و نے ماہنامہ کو مسمار کوئٹہ ماہ اگست ۱۹۵۲ ء بجوار الفضل ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء مطابق ۲۳ ظور ۱۳۳۱ اہش ہے