تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 220
۲۱۷ فائدہ اٹھائیں یا روس لیکن یہ لوگ موجودہ حکومت کو کسی قیمت پر برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں بہندو سے ان کا تعاون ہو سکتا ہے۔انگریزی ڈپلومیسی کی یہ تائید کر سکتے ہیں اور ان کے اشتراک عمل سے بقول احرار مرزا غلام احمد اگر انگریزوں کا خود ساختہ پودا تھا اور انگریزوں نے اس پودا کی کاشت اس لئے کی کہ مرزا غلام احمد جہاد کا مخالف تھا اور اس نے حکومت وقت (یعنی انگریزوں) کے خلاف مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کے جذبہ کو مفقود کرنے کی کوشش کی لیکن ان مذہبی رہنماؤں (جماعت احرار و اسلامی) والوں کو تو جہاد کی حقیقت و اہمیت معلوم تھی کہ ایک غیر ملکی مشترک محکمران قوم کے خلاف جہاد روا بلکہ ایک اہم اسلامی فریضہ ہے۔آپ بتائیے آپ لوگوں نے کسی حد تک انگریزوں کے خلاف جہاد کے لئے کام کیا۔کیا پاکستان میں شرعی آئین کے نفاذ کے یہ دعویدار ( جماعت اسلامی اور احرار) ایک اسلامی سلطنت کے قیام کی مخالفت میں غداری کی جو سر اشرعی آئین پیشش کرتا ہے اس کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے تو قیام پاکستان کے پہلے روز سے ہی پاکستان میں خود ہی شرعی آئین کے نفاذ کا اجراء ہو جاتا۔غداری سے بڑھ کر اسلامی آئین میں کوئی جرم نہیں۔جب یہ لوگ خود اس سے بچ نکلے ہیں تو یہ پاکستانی عوام کے کونسے اتنے خیر خواہ ہیں جو ہندوؤں سے ان کی فروختگی کا سودا د متحدہ ہندوستان کی صورت میں کرنا چاہتے تھے شرعی آئین کے قیام کے لئے زمین و آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔کیا شرعی آئین کے دعویدار یہ وہ لوگ نہیں جب سکھوں کے قبضہ سے مسجد شہید گنج کو چھڑانے کے لئے ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شہید گنج کے حصول کے لئے قربانیاں پیش کیں۔۔۔اس وقت بھی شہید گنج ایجی ٹیشن میں احرار بزرگوں نے فوج کی گولی سے ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی شہادت کو حرام موت اور کتے کی موت مرنے کا فتویٰ دیا تھا اور بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے ساتھ شہید گنج ایجی ٹیشن میں شریک ہوتے الٹا ان کی انگریزوں اور سکھوں سے ساز باز تھی ہم حیران ہیں کہ جس جماعت نے ہر موقعہ پر سلم رائے عامہ کے خلاف مشرکوں اور مرتدوں کا ساتھ دیا ہو وہ آج کسی طرح پاکستان کو ضعف پہنچانے اور اپنے اقتدار کے لئے ایک کلمہ گو فرقہ کو اقلیت اور اقلیت بھی غیر مسلم قرار دلوانے کے لئے ایک بار پھر مذہبی روپ میں پاکستان کے سادہ لوح اور مذہب کے نام پر اپنا سب کچھ لٹا دینے والے غیور مسلمانوں کو اپنے ہمنوا بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور قوم ان کے سابقہ کا نہ ناموں کو جانتے بوجھتے ہوئے پھر ان کا آلہ کار بنے