تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 219
مخدا کی شان آج وہی لوگ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے اور اقتدار حاصل کرنے کے لئے ارکان حکومت پر اس امر کا زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کے مختلف العقائد مسلمانوں کو جن میں ایک جماعت احمدیہ بھی ہے اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو اور پاکستان کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اور اس مطالبہ کی تائید میں ان دونوں جماعتوں (مولانا مودودی کی جماعت اسلامی اور امیر شریعت پر عطاء اللہ شاہ صاحب کی جماعتِ احرار) نے مسلم رائے عامہ کو بھی متاثر کہ رکھا ہے جو سرے سے پاکستان کے قیام کے ہی نہ صرف مخالف تھے بلکہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم اور ان کے دوسرے ساتھی مسلم لیگی زعماء بھی ان کے نزدیک صحیح مسلمان ہی نہ تھے مطالبہ پاکستان کی مخالفت میں قائد اعظم سمیت مسلم لیگی لیڈروں کو جو بڑی سے بڑی فحش کلامی ہو سکتی ہے سے یاد کیا۔جماعت احمدیہ نے مطالبہ پاکستان کی تائید میں ہر بڑی سے بڑی قربانی پیش کی اور قیام پاکستان کے بعد اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہوئے اپنے مرکز اور لاکھوں روپیہ کی جائداد کو چھوڑ کر اپنے کلمہ گو بھائیوں کے زیر سایہ آگئے ہیں مہر و محبت سے انہیں اپنے میلنوں سے ملانے کے بجائے یہ کہاں کا انصاف اور اسلام ہے کہ اقتدار کے خواہشمند چند سیاسی لیڈروں کی خاطر ایک کلمہ گو فرقہ سے متعلق ہزاروں انسانوں کی زندگی دو بھر کر دی جائے بے حکومت کو پریشان کرنے اور مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کرنے کی خاطر ایک ایسا مطالبہ پیش کر دیا گیا ہے جسے اگر آج تسلیم کر لیا جائے تو اس سے کل دوسرے علم فرقوں کو بھی اقلیت قرار دینے کی راہ صاف ہو جاتی ہے۔نیز حکومت اور مسلمانوں کے پاس اس امر کی کیا گارنٹی ہو سکتی ہے کہ جب اسلام کا دائرہ احرار کے نزدیک اس قدر تنگ ہے کہ کلمہ، نماز ، روزہ ، حج ، زکواۃ پانچوں ارکان اسلام کی سختی سے پابندی کرنے والے ایک گروہ کو سرے سے ہی کافر اور غیر مسلم قرار دیا جا رہا ہے خدانخواستہ اگر ان کے ہاتھ اقتدار آجائے تو پاکستان کے دوسرے مسلمانوں سے جو کئی فرقوں میں بیٹے ہوئے ہیں اسلامی اور منصفانہ سلوک روا رکھیں گے۔دوسری صورت میں جب تک ان کے ہاتھ اقتدار نہیں آجاتا پھر بھی یہ لوگ اسی طرح پاکستان میں رہنے والے دوسرے فرقوں کو بھی اقلیت قرار دلوانے کے لئے پاکستان میں کسی نہ کسی وقت قومی جنگ کی ہوئی گرم کر کے ہی دم لیں گے۔جب یہ لوگ سرے سے ہی مسلم حکومت کے قیام کے مخالف تھے اور ہیں تو انہیں اس سے کیا غرض (اگر اقتدار ان کے ہاتھ نہیں آسکتا ، تو مسلمانوں کی اس کمزوری سے خواہ ہندو