تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 206 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 206

۲۰۳ یہ شعلہ نوائی جلد ہی رنگ لائی اور عوام میں اپنے سلمان محبت وطن حلقوں میں تشویش و اضطراب عمرانوں کے خلاف اتش انتقام ملنے لگی میں عورت اور سیاسی رد عمل ہونے لگا اور انتشار اور بدامنی اور بے اطمینانی کا مہیب طوفان اٹھتا دکھائی دینے لگا تو تمام محب وطن مسلمان حلقوں میں تشویش و اضطراب کی زیر است پر پیدا ہوگئی حتی کہ وہ طبقہ بھی جو اب تک خاموش کھڑا اس معاملہ کو ایک دینی مسئلہ مجھے بیٹھا تھا، احتجاج کرنے لگا۔ان دنوں اس تحریک کا اصل مرکز مان تھا جس کے ہیں صحافیوں نے تحریک ختم نبوت کا ملتان موجودہ دورہ کے عنوان سے حسب ذیل اشتہار شائع کیا۔کے۔تحریک ختم نبوت کی ابتداء جن مقاصد کو پیش نظر رکھ کر کی گئی اس نے بلا امتیاز فرقہ پر ایک مسلمان کا دل و د بارغ اپنی طرف متوقہ کر لیا لیکن ہمیں افسوس ہے کہ یہ مقدس تحریک جس موجودہ دور سے گزر رہی ہے اور اس سے پاکستانی عوام، پاکستان کی سالمیت، سکون اور امن پر چو ہولناک جملے ہو رہے ہیں اُس نے ہر ایک ذی شعور مسلمان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بانیان تحریک کون ہیں اور اس تحریک سے ان کا اصل مقصد کیا ہے؟ ہم صحافیان ملتان نے دیگر صوبہ جات مملکت خدا داد پاکستان کے مسلمانوں کے خیالات کا مطالعہ بھی کیا ہے ہم نے حکومت کے اعلانات، بیانات اور انسدادی تدابیر پر بھی غور کیا ہے ہم نے اگی خیالات پر بھی دھیان دیا ہے جو دیگر ممالک کی صحافت نے اس تحریک کے متعلق ظاہر کئے ہیں۔ہم نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ سمجھدار طبقہ اس تحریک کی موجودہ انتشار انگیز هر در سال شکل کو سخت نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مسلم عوام کا ایمان تازہ ، ارا دئے ستقل اور قدم مضبوط ہیں اور وہ ہر ایسی تحریک سے دیوانہ وار منسلک ہو جاتے ہیں جو قوم، ملک اور مذہب کے نام پر چلائی جائے لیکن اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ ان کی یہ قربانیاں ملک و ملت کے لئے مفید بھی ہیں یا نہیں ؟ اگر تحریک کے علمہ دار پاکستان دشمنی، قوم کی تباہی اور دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے درپے ہوں تو خدایان ناموس رسول کا اولین فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ ملک و قوم کے دشمنوں کے دھوکہ میں نہ آئیں اور ہم سجھتے ہیں کہ ایسے وقت میں قومی مفاد کے تحفظ کی ذمہ داری جہاں گورنمنٹ پر عائد ہوتی