تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 205
۲۰۲ یہ وہی " امیر شریعت تھے جنہوں نے قبل ازیں ختم نبوت کا نفرنس کراچی میں یہ فرمایا تھا کہ۔اگر خواجہ غریب نواز اجمیری، سید عبد القادر جیلانی، امام ابو حنیفہ، امام بخاری ، امام مالک، " امام شافعی، ابن تیمیہ، غزالی حسن بصری ، نبوت کا دعوی کرتے تو کیا ہم انہیں نبی مان لیتے عملی دعوی کرتا کہ جیسے تلوار حق نے دی اور بیٹی نہی نے دی عثمان غنی دعوی کرتا ، فاروق اعظم دعوای کرتا، ابو بکر صدیق دعوای کرتا تو کیا بخاری اسے نہیں مان لیتا ہے آل مسلم پارٹیز کنونشن کے انعقاد کے بعد حکومت پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی اور کس طرح مل ملا قند اور بغاوت پر اکسایا بجانے لگا اس کا صرف ایک نمونہ کافی ہے۔احرار کے مجاہد یکت مولوی محمد علی صاحب بجالندھری نے اگست ۱۹۵۲ء میں ملتان کا نفرنس میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا :- اگر حکومت نے کراچی کی طرح سنگینوں کے سائے میں مرزائیت کی جبری تبلیغ کروانی ہے تو پھر ہماری تمہاری جنگ ہے ، اگر اظہارہ استبداد کے معنی بغاوت ہے۔اگر مظلوم کی فریاد کے معنی بغاوت ہے۔اگر بیزاری بیداد کے معنی بغاوت ہے۔اگر ایک فطریت آزاد کے معنی بغاوت ہے تو پھر میں ایک باغی ہوں میرا مذہب بغاوت ہے " محمد ملک کے لئے نہیں ملک محمدؐ کے لئے ہے اور ایسے کروڑوں خطہ ارضی محمد کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جا سکتے ہیں لگے اپنی وزارتوں کے تحفظ کے لئے سیفٹی اور سیکیورٹی ایکٹ بنانے والو! اس دن کے متعلق بھی سوچ لو۔۔۔جب حوض کوثر پر محمد کوثر کا پیالہ ہاتھ میں لئے سوال کریں گے تمہاری زار توں میں میری نبوت کیوں کہ رسوا ہوئی تو سوچ لو اس وقت تمہارا کیا جواب ہوگا ہے سے اه آزاد لاہور ۱۸ مئی ۱۹۵۱ به سے اسی سے ملنے جھیلتے الفاظ رئيس الاحرار موادی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی نے بھی استعمال فرمائے تھے فرق یہ تھا کہ انہوں نے محمد کی بجائے جواہر لال نہرو کا نام لیا اور فرمایا " دس ہزار جینا اور شوکت اور ظافر خواہ مرلانی شرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جا سکتے ہیں" چمنستان طلت از مولانا ظفر علی خان - ٹا اثر مکتبہ کا رتان کچہری روڈ لاہور طبون ۴۱۹۲۳) سے ہفت روزہ حکومت کراچی عقیدہ ختم نبوت کا علمبر داده ام را گست ۱۹۵۲ م کالم ۴۰۳*